خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 618 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 618

خطبات ناصر جلد اول ۶۱۸ خطبہ جمعہ ۱۷ مارچ ۱۹۶۷ء کے زمانہ کی پیشگوئی ہے وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمُ اور اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہزار سالہ دور تنزل کے آخر پر جب مسلمانوں کی اکثریت خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرنے والی ہو گی تتولوا ان پر صادق آ رہا ہوگا ایک اور قوم اللہ تعالیٰ پیدا کرے گا جو ان جیسی نہیں ہوگی یعنی یہ تو انفاق سے گریز کرنے والے ہوں گے اور وہ (جماعت احمدیہ ) انفاق کرنے کے بعد بھی یہ سمجھنے والے ہوں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے حضور کچھ بھی پیش نہیں کیا بالکل تضاد ہو گا دو قوموں کے کیریکٹر میں اور ان کی ذہنیت میں۔تفسیر روح البیان میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض صحابہ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہاں وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلُ قَوْمًا غَيْرَكُمْ میں جس قوم کا ذکر ہے یہ کون سی قوم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں اس وقت سلمان فارسی” کھڑے تھے آپ نے فرما یا یہ اور اس کی قوم اور پھر آگے وہ حدیث آتی ہے کہ اگر ثریا پر بھی ایمان چڑھ گیا ہو گا تو فارسی الاصل مسیح موعود وہاں سے بھی ایمان کو لا کر قرآن کریم کے معانی اور اس کے معارف کو زمین پر قائم کرے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت کے مطابق بڑی وضاحت سے بتا دیا کہ جس قوم کا اس آیت میں ذکر ہے وَإِن تَتَوَلَّوا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وہ جماعت احمدیہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی فرمائی کہ اسلام پر انتہائی تنزل کا زمانہ آئے گا اور مسلمان کہلانے والے دین کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرنے لگ جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے وقت اور اس وقت سے اب تک جو زمانہ گذرا ہے اس میں آپ تمام مسلمانوں کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں خواہ وہ پاکستان اور ہندوستان کے رہنے والے ہوں خواہ وہ دوسرے ملکوں کے رہنے والے ہوں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اُمت مسلمہ کی انفاق فی سبیل اللہ کے لحاظ سے بالکل وہی حالت تھی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے کہ وہ انفاق فی سبیل اللہ سے اعراض کرنے والے ہوں گے اِلَّا مَا شَاءَ اللہ اس میں شک نہیں کہ بعض بڑے نیک آدمی بھی تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل لیکن بڑی بھاری اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو شاید انفاق فی سبیل اللہ کے نام سے بھی آشنا نہ تھے دین کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرنے میں