خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 556
خطبات ناصر جلد اول ۵۵۶ خطبہ جمعہ ۶ / جنوری ۱۹۶۷ء تیار نہیں ہو جاؤ گے۔اگر تم اپنے سارے اموال قربان کر کے، اگر تم اپنی ساری لذات قربان کر کے، اگر تم دنیا کی تمام خواہشات قربان کر کے، اگر تم اپنی اولا د اور رشتہ داروں کو اور ان کی محبتوں کو قربان کر کے اس کی طرف آنے کی کوشش نہیں کرو گے تو وہ تمہیں نہیں ملے گا۔وہ تمہیں صرف اس وقت مل سکتا ہے جبکہ تم جتنی کوشش اور جتنی قربانی دنیا کے حصول اور دنیا کی ترقیات اور دنیا کے رازوں کو معلوم کرنے کے لئے دے رہے ہو اس سے زیادہ قربانیاں اپنے خدا کی تلاش میں اس کے حضور پیش کرو۔ہاں ! پھر وہ تمہیں مل جائے گا۔اگر ہم سوچیں تو یہ جمعتہ الوداع (اگر اس پر صحیح نقطہ نگاہ سے نگاہ ڈالیں ) اور یہ ” لَيْلَةُ الْقَدْرِ “ ہمارے لئے بطور ایک سبق کے ہے بات یہ ہے کہ وہ انسان جو بہانہ تلاش کرتا ہے اور بغیر قربانی کے اپنے ربّ کو پالینے کی امید رکھتا ہے وہ تو ایک رات اور ایک دن کی تلاش میں ہے اور اگر ہم سوچیں تو وہ دن کا گناہ بھی کر رہا ہے اور رات کا گناہ بھی کر رہا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ سارے سال میں ایک دن (جمعتہ الوداع) کی عبادت میرے لئے کافی ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ سارے سال کی راتوں میں سے ایک رات ( لَيْلَةُ الْقَدْرِ ) کا قیام میرے لئے کافی ہے حالانکہ اگر صحیح نقطۂ نگاہ سے ہم اس دن اور اس رات کو دیکھیں تو ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر وہ دن جو خدا کی یاد میں خرچ ہو وہ تو جمعتہ الوداع کا ہی رنگ رکھتا ہے جس میں انسان سارے دنیوی علائق کو چھوڑ کر اور دنیا کے کاموں کو چھوڑ کر اور پوری تیاری کرنے کے بعد اور کثرت کے ساتھ تلاوت قرآن کرنے کے بعد ( اور پھر جمعہ کے بعد بھی تلاوت قرآن کر کے ) اور تمام آداب جمعہ کو بجالا کر خدا کی رضا کو تلاش کرتا ہے تو ہمیں یہ بتایا کہ تمہارا وہ دن جو خدا کو پیارا ہوسکتا ہے اور جس کے نتیجہ میں خدا کا قرب تم حاصل کر سکتے ہو اور جس کی وجہ سے خدا کا دیدار تمہیں نصیب ہوسکتا ہے۔وہ تو وہ دن ہے جو جمعۃ الوداع کی طرح دنیا اور اس کی لذتوں سے بیزار اور کلیہ اپنے رب کے حضور جھکا ہوا ہو۔پس سال کے ہر دن کو اس معنی میں جمعۃ الوداع بناؤ اگر تم خدا کو پانا چاہتے ہو۔ليْلَةُ الْقَدْرِ “ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ خدا کی تقدیریں تمہارے حق میں اور تمہارے فائدہ کے لئے اس وقت حرکت میں آئیں گی جب تم راتوں کو اپنے رب کے لئے زندہ کرو گے۔اگر تم یہ