خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 529
خطبات ناصر جلد اول ۵۲۹ خطبه جمعه ۲۳ دسمبر ۱۹۶۶ء ہم ہر کام اس کی رضا اور خوشنودی کے لئے کرنے والے ہوں اور شیطان کا کوئی حصہ بھی ہمارے اعمال میں نہ ہو خطبه جمعه فرموده ۲۳ / دسمبر ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔انسان جب درخت لگاتا ہے۔تو اس کے لگائے ہوئے درختوں میں سے بہت سے درخت مرجاتے ہیں۔بعض دفعہ باغوں میں سو میں سے نوے درخت مرجاتے ہیں اور باغبان کو پھر نئے سرے سے محنت کرنی پڑتی ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ اپنے ہاتھ سے کوئی درخت لگا تا ہے۔تو وہ درخت مرا نہیں کرتا۔بلکہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات اور ان صفات کے جلوے اس کی حفاظت کے لئے آسمان سے اُترتے ہیں اور اسے ہر ایسی بیماری سے محفوظ رکھتے ہیں جو اس قسم کے درختوں کے لئے مہلک ہوتی ہے۔جب تک کہ وہ درخت اپنی عمر کو پورا نہیں کر لیتا۔جس عمر کا فیصلہ آسمانوں میں خدا تعالیٰ کی اُم الکتاب میں موجود ہوتا ہے جب وہ مقررہ گھڑی آتی ہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کے لگائے ہوئے درخت مرا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے الہی جماعتوں اور سلسلوں کی شکل میں جو درخت لگائے ہیں اگر چہ وہ اپنی مدت معینہ تک زندگی اور بہار کے جلوے دکھاتے رہتے ہیں۔لیکن ان درختوں کی بھی بعض ٹہنیاں خشک ہو جایا کرتی ہیں جیسا کہ قانونِ قدرت ہمیں دکھاتا ہے کہ دنیا میں زندہ درختوں کی