خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 511
خطبات ناصر جلد اول ۵۱۱ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء رہے ہوتے ہیں اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے ایک نہایت کمزور بندے پر نگاہ ڈالتا اور اپنے لئے اسے چلتا ہے کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے اگر بندوں پر اس کو چھوڑ ا جا تا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنالیتے۔لیکن خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا ہے جس کے متعلق دنیا سمجھتی ہے کہ اسے کوئی علم حاصل نہیں، کوئی روحانیت اور بزرگی اور طہارت اور تقویٰ حاصل نہیں۔اسے وہ بہت کمزور جانتے ہیں اور بہت حقیر سمجھتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلی طور پر فنا اور نیستی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے اور جو اس کے مخالف ہوتے ہیں انہیں کہتا ہے کہ مجھ سے لڑ واگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے۔یہ بندہ بے شک نحیف، کم علم، کمزور، کم طاقت اور تمہاری نگاہ میں طہارت اور تقویٰ سے عاری ہے لیکن اب یہ میری پناہ میں آ گیا ہے اب تمہیں بہر حال اس کے سامنے جھکنا پڑے گا۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انتخاب خلافت کے وقت اسی کی منشا پوری ہوتی ہے اور بندوں کی عقلیں کوئی کام نہیں دیتیں۔اس آیتہ کا آیت استخلاف کے ساتھ بھی بڑا گہرا تعلق ہے۔وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں اسی قسم کا مضمون بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارتضى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا يَعْبُدُونَنِى لَا يُشْرِكُونَ فِي شَيْئًا ۖ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ۔( النور : ۵۶ ) اس وقت یہاں میں ساری آیت کی تفسیر میں نہیں جاؤں گا۔البتہ یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ وَلَيُمَكِنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمُ میں وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا کا مفہوم پایا جاتا