خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 508 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 508

خطبات ناصر جلد اوّل ۵۰۸ خطبه جمعه ۲۵ نومبر ۱۹۶۶ء اور یہ لوگ اس مقام رفعت کو قائم نہیں رکھ سکے، اس مقام سے گر گئے اور آج اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی لعنت کا مورد بن گئے ہیں۔تو تیسرا حکم ہمیں وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا میں اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ہے کہ جب تم میری رضا کو اس دنیا میں حاصل کر لو، میرے قرب کو پالو ، تب بھی مطمئن نہ ہو جانا کہ تمہاری قربانیاں اور مجاہدات جو تم کر چکے ہو وہی کافی ہیں اور میری رضا کے مقام پر قائم رہنے اور اس میں مزید ترقی کرنے کے لئے تمہیں کچھ اور نہیں کرنا۔اس وقت بھی آگے سے آگے تمہارا قدم جانا چاہیے۔تمہاری پہلی قربانیاں بعد میں آنے والی قربانیوں کے مقابلہ میں پیچ نظر آنے لگیں۔پوری کوشش تمہیں کرنی پڑے گی کہ شیطان تم پر کامیاب حملہ نہ کر سکے حملہ تو وہ ضرور کرتا ہے اور کرتا رہے گا لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان شیطان کے حملوں سے اپنے آپ کو بچائے اور اس کے دام فریب میں اپنے آپ کو نہ آنے دے۔تو یہ تین معنی وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللہ کے ہیں اور معانی کی اس ترتیب سے جو میں نے بیان کی ہے اللہ تعالیٰ نے درجہ بدرجہ ہمیں تین سبق دیئے ہیں اور ہوشیار کیا ہے اور متنبہ کیا ہے اور ہمیں ڈرایا ہے اس بات سے کہ اگر تم عہد توڑو گے تب بھی تباہی۔عہد کے نباہتے وقت قرآن کریم سے منہ موڑو گے تب بھی ہلاکت۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور آپ کے ارشادات کی عظمت قائم نہیں کرو گے تب بھی شیطان کا کامیاب وارتم پر ہو جائے گا اور پھر جب تم یہ سب کچھ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر لو گے تو اس وقت بھی مقام خوف رہے گا۔جب تک تم اس دنیا میں زندہ ہو ، جب تک تم اپنے انجام کو نہ پہنچ جاؤ اس وقت تک چوکس اور بیدار رہ کر اپنے مقام رفعت اور مقام روحانیت کی حفاظت کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔پس وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا میں اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتایا کہ اگر تم اس مفہوم کے مطابق جو عربی کے لحاظ سے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا کا ہے۔ہمارے حکم بجالا ؤ گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ تمہارے اندر کوئی ایسا تفرقہ پیدا نہیں ہو گا جو ملت کے شیرازہ کو بکھیر دے اور ترقی کی جو منازل اُمت مسلمہ طے کر رہی ہے اس میں تنزل کا کوئی رخنہ واقع ہو جائے۔