خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 493 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 493

خطبات ناصر جلد اول ۴۹۳ خطبہ جمعہ ۱۸/نومبر ۱۹۶۶ء ننانوے ہزارنوسوننانوے آدمیوں کو تسلی ہو جاتی ہے۔البتہ جس کے اندر ایمان کی کمزوری ہوا سے تسلی نہیں ہوتی۔بڑی بھاری اکثریت الہی سلسلوں کی ایسی ہوتی ہے کہ ان کو سمجھ آئے یا نہ آئے خلیفہ وقت کے فیصلہ پر ان کے دل تسلی پا جاتے ہیں۔تو شکایت کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے آپ اپنا نام لکھیں اور صحیح واقعات لکھیں ، غلط واقعات نہ لکھیں۔اگر آپ اس طرح کریں گے تو آپ کی شکایت دور ہو جائے گی۔لیکن اگر آپ آدھی بات صحیح لکھیں گے اور آدھی بات غلط لکھیں گے تو نتیجہ یہ ہو گا کہ جس نے غلطی کی اس کے خلاف بھی تعزیری کا رروائی کی جائے گی اور آپ کے خلاف بھی کی جائے گی کہ کیوں غلط بیانی سے کام لیا اور پھر خلیفہ وقت کے سامنے !!! سو شکایت کا دروازہ کھلا ہے اور جب تک خلافت راشدہ قائم ہے یہ دروازہ کھلا رہے گا۔اس سلسلہ میں اگر بعض افسر اس چیز کو برا مناتے ہیں تو میں انہیں نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ وہ قطعاً اسے برا نہ منائیں کیونکہ اگر آپ نے یہ دروازہ بند کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نے لوگوں کے دلوں کی تسلی اور اطمینان کا دروازہ بند کر دیا۔شکایت کے لئے کسی پراپر چینل (Proper Channel) یعنی افسروں کی وساطت سے جانا بھی ضروری نہیں ہے۔اپیل کے لئے یہ ضروری ہے کیونکہ وہ قانونی چیز ہے۔قانون یہ کہتا ہے کہ اگر افسر کے خلاف اپیل کرنی ہو تو اس افسر کی وساطت سے لکھو تا کہ وہ اپنا نوٹ بھی دے دے۔لیکن جس نے شکایت کرنی ہو اس کے لئے ایسا کرنا ضروری نہیں ہے۔سیدھا راستہ کھلا ہے وہ شکایت کے لئے ہر وقت خلیفہ وقت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ میری یہ شکایت ہے اسے دور کیا جائے۔تو اگر کوئی شخص شکایت کرتا ہے تو افسران اور عہدیداران کو برانہیں منانا چاہیے۔بلکہ ایک لحاظ سے خوش ہونا چاہیے کہ بجائے اس کے کہ لوگ اِدھر اُدھر باتیں کریں معاملہ اوپر چلا گیا ہے۔اس طرح ان کی اپنی پوزیشن واضح ہو جائے گی۔شکایات عموماً غلط بیانی پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ غلط فہمی پر مبنی ہوتی ہیں۔