خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 490
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۹۰ خطبہ جمعہ ۱۸/ نومبر ۱۹۶۶ء مقامات پر قائم ہیں۔مثلاً یہاں جو ہماری زمینیں اور مختلف فارم ہیں۔ان کے کاموں کے چلانے کا ایک انتظام ہے اور یہ انتظام نظام جماعت سے مختلف ہے۔کچھ مخلص واقفین نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضور اپنی زندگیوں کو پیش کیا اور آپ نے ان کو یہاں کی زمینیں سنبھالنے کے لئے مقرر کر دیا۔بعض کو مینجر بنایا ، بعض کو منشی اور بعض کو اکا ؤنٹنٹ اور بعض کے سپر د دوسرے کام کئے۔کچھ لوگ بطور مزارع نہ صرف زمین میں ہل چلانے اور اس سے فائدہ اُٹھانے کے لئے یہاں آباد ہوئے بلکہ ان کی نیت یہ بھی تھی کہ اگر ہم جماعت کی زمینوں پر کام کریں گے تو ہمیں دنیوی فائدہ بھی ہو گا اور روحانی فائدہ بھی اور روحانی طور پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ہم وارث بنیں گے۔ایسے لوگ اپنی اپنی نیت اور اخلاص اور عمل کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے۔(اللہ تعالیٰ سب کا انجام بخیر کرے) پھر زمینوں کا جو انتظام ہے اس میں جیسا کہ میں نے کہا ہے کوئی تو میجر ہے، کوئی منشی ہے، کوئی اکا ؤنٹنٹ ہے۔کوئی دوسرے کام کر رہا ہے اور پھر کچھ احمدی بحیثیت ہاری اور مزدور کام کر رہے ہیں۔جہاں تک منتظمین کا تعلق ہے وہ بھی انسان ہیں اسی طرح جس طرح کہ یہاں بسنے والے ہاری اور مزدور انسان ہیں اور ہر دو کے لئے غلطی کے ارتکاب کا ایک جیسا امکان ہے۔جس طرح ہاری غلطی کر سکتا ہے۔اسی طرح منتظم اور افسر بھی غلطی کر سکتا ہے۔افسرانِ مقامی کی غلطیوں کی اصلاح کے لئے ان کے اوپر مرکزی نظام ہے مگر بوجہ دور ہونے کے پوری تفصیل مرکز کے سامنے نہیں جاسکتی۔اس لئے گا ہے گا ہے وہاں سے اعلیٰ افسر یہاں آتے رہتے ہیں اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی دستور تھا کہ آپ سال میں ایک یا دو باران زمینوں کا دورہ کرتے تھے اور تمام حالات کا جائزہ لیتے تھے۔جہاں غلطی دیکھتے تھے اس کی اصلاح فرما دیتے تھے۔دوست یا درکھیں کہ غلطی کی اصلاح کے لئے ایک مناسب طریق ہے جو اسلام نے ہمیں بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ شکایت کرنے والا اپنا نام چھپائے نہیں۔بغیر نام کے جو شکایت حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آتی تھی وہ پھاڑ کر پھینک دی جاتی تھی۔جو بے نام شکایت میرے پاس -