خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 482 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 482

خطبات ناصر جلد اول ۴۸۲ خطبہ جمعہ اار نومبر ۱۹۶۶ء یہی بڑا فرق ہے کہ ایک سچے مسلمان اور ایک دہر یہ کمیونسٹ کے درمیان ! کمیونسٹ ملکوں نے کمانے پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور یہ پابندیاں لگا کر انسان کی بہت سی طاقتوں اور جذبات کو کچل دیا ہے۔یہ صحیح ہے کہ اسلام ناجائز کو جائز قرار نہیں دیتا لیکن وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ جائز ذرائع سے جتنا چاہو کماؤ تم پر کوئی پابندی نہیں ہاں کمانے کے بعد جب کو ٹھے“ بھر جائیں اور اس سونے چاندی کے خرچ کرنے کا وقت آئے تو اسلام کہتا ہے کہ فلاں فلاں کاموں پر خرچ نہیں کرنا ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا۔شادی بیاہ میں ناچ گانے نہ کروانا کیونکہ یہ تمہارے خدا کو پیارے نہیں۔جب کسی رشتہ دار کی وفات ہو جائے تو نا جائز غلط اور غیر مسنون ذریعہ سے اسے ثواب پہنچانے کی کوشش نہ کرنا۔ہاں جو جائز اور نیکی کا کام ہے۔اس پر بے شک خرچ کرو۔تو اللہ تعالیٰ نے خرچ کی راہوں کو متعین اور محدود کر کے بالکل واضح کر دیا ہے اور جو غلط طریقے ہیں ان کی بھی وضاحت کر دی ہے۔بعض غلط رسوم اور رواج پھر بعض جماعتوں میں گھس رہے ہیں۔گندی رسموں اور گندے رواجوں کے دروازے بند ہونے چاہئیں ورنہ ہمارا یہ دعویٰ غلط ہوگا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں۔جو طریق شادی بیاہ، موت وفوت ، دوستوں سے ملنے انہیں دعوتوں پر بلانے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔اگر ہمارے دلوں میں آپ کی محبت ہوگی تو وہی طریق ہم بھی اختیار کریں گے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طریق شروع سے لے کر آخر تک یہ اختیار کیا کہ آپ کے ہاتھ سے کسی ایک شخص کو بھی دکھ نہیں پہنچا۔یعنی آپ نے کبھی ایسا راستہ اختیار نہیں کیا اور آپ کی زندگی میں اس کی کوئی ایک مثال بھی نہیں مل سکتی کہ کسی شخص کو آپ کے ہاتھ سے کوئی تکلیف پہنچی ہو اور وہ اس کا مستحق نہ ہو۔اس کے مقابلہ میں ہزار ہا انسان ایسا ہے جس کا یہ حق بنتا تھا کہ ان کو کوئی تکلیف پہنچائی جائے اور سزا دی جائے۔مگر آپ نے ان کو معاف کر دیا۔چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر وہ سرداران کفر جن کو اللہ تعالیٰ کی مشیت نے میدانِ جنگ میں قتل ہونے سے بچالیا تھا انہیں سزائے موت نہیں دی گئی۔حالانکہ ان میں سے ہر ایک سمجھتا تھا کہ آج میری موت دروازہ پر