خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 478 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 478

خطبات ناصر جلد اول ۴۷۸ خطبہ جمعہ ۱۱/ نومبر ۱۹۶۶ء اور تمام جہاں کا فقرہ فلاں آیت میں پایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔اور کہا کہ پیسے نکالو کیونکہ ہم 66 نے چیلنج منظور کر کے اس کا جواب دے دیا ہے۔حالانکہ ہمارا چیلنج یہ تھاہی نہیں پھر یہ الفاظ پتہ ہے پائے کہاں جاتے ہیں؟ اصلی بائیبل میں نہیں بلکہ بائیبل کے اردو تر جمہ میں اور یہ احمقانہ بات ہوتی اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ تم سورۃ فاتحہ کے الفاظ بائیل سے نکال کر دکھاؤ جس کی زبان عربی نہیں جیسے میں کہوں ” نکال دو‘ پنجابی میں کہتے ہیں کڈھ دیو یہ تم اگر عبرانی زبان سے نکال دو۔تو تمہیں انعام دیں گے تو یہ پنجابی کا لفظ عبرانی سے کیسے نکل آئے گا۔یہ تو ہم نے چیلنج ہی نہیں دیا تھا۔پھیلنج یہ تھا کہ جو مضامین اور مطالب سورۃ فاتحہ میں پائے جاتے ہیں وہ ہمیں بائیبل سے نکال کر دکھاؤ۔تم خود کہتے ہو کہ پہلے ان کتابوں کا ترجمہ انگریزی میں ہوا اور پھر اُردو میں ہوا اور جب اُردو میں ترجمہ ہوا۔تو بہت سے مسلمان عیسائی ہو چکے تھے اور وہ قرآن کریم کی زبان اور اس کے محاوروں سے متاثر تھے۔جب ترجمہ ہوا تو انہوں نے انہی الفاظ کو نقل کرنا شروع کر دیا۔تو اس نقل کے بعد اب کہتے ہیں کہ یہ لفظ بائیبل میں یعنی بائیل کے اردو تر جمہ میں پائے جاتے ہیں۔تو خود ایک پادری کا ایسا جواب دینا بتاتا ہے کہ ان مضامین کا بائیبل میں پایا جانا تو کجا! بائیبل کے پڑھنے والوں کے تخیل سے بھی وہ مضامین باہر ہیں اسی لئے ان کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ کہیں کہ بتائیے وہ کون سے مضامین ہیں جو سورۃ فاتحہ میں بیان ہوئے ہیں۔مجھے جب پتہ چلا کہ بعض پادری ہمارا یہ چیلنج قبول کرنے کے لئے تیار ہیں تو میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ جہاں جہاں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورہ فاتحہ کی تفسیر کی ہے پوری سورۃ کی یا اس کی کسی آیت کی۔وہ اکٹھی کر لی جائے تا کہ جب وہ ہمارا چیلنج قبول کریں اور ہم سے سورۃ فاتحہ کے ان مضامین اور مطالب کا مطالبہ کریں۔جو اس میں بیان ہوئے ہیں تا کہ ان کے مقابل ویسے ہی مضامین بائیبل سے نکال کر دکھائے جائیں۔تو وہ اکٹھے ہی ان کے سامنے پیش کر دئے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ تفسیر سورہ فاتحہ کو