خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 460
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۶۰ خطبہ جمعہ ۴ /نومبر ۱۹۶۶ء ہمیشہ احسان کی اور ہمیشہ جذبہ ایتاء ذی القربی کے پیدا کرنے والی باتیں کیا کرو اور انہیں تلقین کیا کرو کہ علمی لحاظ سے بھی اور ذہنی لحاظ سے بھی وہ ایک سچے مسلمان کی سی زندگی گزارنے لگیں۔اعمال میں جہاں تک نماز کا تعلق ہے (جیسا کہ میں نے پہلے بھی ایک خطبہ میں کہا تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دس سال کی عمر میں بچے پر نماز واجب ہو جاتی ہے۔اگر وہ لڑکا ہے تو مسجد میں جا کر باجماعت نماز ادا کرنا اس پر واجب ہوتا ہے لیکن بچہ ایک دن میں تو نماز پڑھنا شروع نہیں کر دے گا اس لئے فرمایا کہ اس فرض کو عمدگی سے ادا کرنے کی تربیت دینے کی خاطر تین سال پہلے کام شروع کرو وہ سات سال کا ہو تو اسے نماز کی طرف مائل کرو اور متوجہ کرو اور اگر وہ لڑکا ہے تو اسے اپنے ساتھ مسجد میں لے جانا شروع کر دو اور مسجد کے آداب بھی سکھاؤ۔اس طرح عبادت کے عملی کام جو ہیں ان میں حصہ لینے کی طرف اسے متوجہ کرو اور اس رنگ میں ان کی تربیت کرو کہ عملی روحانی کاموں کے فرض ہوتے وقت اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے وہ پورے طور پر تیار ہوں۔نماز کے بعد دوسرا بڑا کام جو ایک مسلمان پر بطور فرض کے عائد ہوتا ہے وہ مال کی قربانی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اتنی شاندار قربانیاں دیں کہ اگر وہ ثقہ راویوں سے بیان نہ ہوتیں تو شاید ہماری عقلیں ان کی صحت کو قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہ ہوتیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کے پاس چالیس ہزار اشرفیاں جمع تھیں۔آج کل تو اشرفی ملتی ہی نہیں۔میرے خیال میں جو دوست یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے ایک فی صدی نے بھی سونے کی اشرفی نہ دیکھی ہوگی۔اس وقت قوت خرید کو دیکھا جائے تو اس کے مطابق ایک اشرفی کی قیمت سو، سواسو ہے۔کیونکہ سوسواسو میں ایک اشرفی ملتی ہے تو چالیس ہزار اشرفی قریباً پچاس لاکھ روپیہ بنتا ہے۔جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے اپنے دل میں عہد کیا کہ یہ ساری رقم میں اسلام کے لئے خرچ کروں گا چنانچہ جو کچھ انہوں نے جوڑا ہوا تھا اور ریز رو کے طور پر رکھا ہوا تھا ( تجارت