خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 451
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۵۱ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء دیتا ہے اور کمزوری نہیں دکھاتا۔صداقت سے منہ نہیں موڑتا۔دشمن کہتے ہیں کہ تم تو بہ کر لوتو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے وہ کہتا ہے کہ کس چیز سے تو بہ؟؟ تو بہ کر کے حق کو چھوڑ دوں !! صداقت سے منہ پھیروں !!! اور باطل کی طرف آجاؤں ! ایسا مجھ سے نہیں ہوسکتا !! مرنا آج بھی ہے اور کل بھی۔تمہارا جی چاہتا ہے تو مار دو۔لیکن میں صداقت کو نہیں چھوڑ سکتا۔پانچویں شکل مجاہدہ کی جو قرآن کریم میں بیان ہوئی ہے وہ ہجرت فی سبیل اللہ ہے۔اس کی تفصیل کو میں اس وقت چھوڑتا ہوں۔چھٹی شکل اللہ تعالیٰ نے جو مجاہدہ فی سبیل کی بتائی ہے وہ ہے خدا کے دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے انسان سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرے۔سفر میں بہر حال ویسا آرام نہیں مل سکتا جیسا کہ اپنے گھر میں ملتا ہے۔بعض لوگ سفر سے گھبراتے ہیں۔بعض لوگ بار بار سفر کرنے سے گھبراتے ہیں۔تو ہمارے مربی ، معلم اور انسپکٹر صاحبان کو جو سال کے چھ سات ماہ سفر میں رہتے ہیں خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بھی اپنی راہ میں مجاہدہ قرار دیا ہے اور اس کی جو برکات ایک مجاہد پر نازل ہوتی ہیں یہ لوگ بھی اس کے وارث ہیں۔جیسا کہ فرمایا يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ الله (النساء : ۹۵) اگر چہ اس آیت میں اپنی کانٹیکسٹ کے لحاظ سے یعنی اس مضمون کے لحاظ سے جو اس آیتہ میں بیان ہوا ہے۔یہ سفر جنگ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔لیکن جنگ کرنے کا ثواب علیحدہ ہے اور اِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ کا ثواب علیحدہ یہاں بتایا گیا ہے۔اسی طرح اِنْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللهِ (التوبة: ۳۸) ہے۔تو بہت دفعہ خدا کی راہ میں سفر کرنا پڑتا ہے۔مثلاً وقف عارضی میں وقف کرنے والوں کو میں نے یہی کہا تھا کہ تم بتاؤ کہ تم کتنا سفر کر سکتے ہو؟ اس کے جواب میں بعض دوستوں نے لکھا کہ ہم اپنے خرچ پر پندرہ بیس میل سفر کر سکتے ہیں بعض نے لکھا کہ ہم پچاس ساٹھ میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ ہم سوڈیڑھ سو میل سفر کر سکتے ہیں۔بعض نے لکھا کہ سارے پاکستان میں جہاں آپ کی مرضی ہو بھجوا دیں۔ہم سفر کرنے کے لئے تیار ہیں تو ایسے مومن بھی مجاہدین میں شامل ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی راہ میں سفر کرنے کو بھی اللہ تعالیٰ نے مجاہدہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔ساتویں اور مجاھدہ کی سب سے اہم قسم جَاهِدُهُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا (الفرقان : ۵۳) میں