خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 431
خطبات ناصر جلد اول ۴۳۱ خطبه جمعه ۱۴ /اکتوبر ۱۹۶۶ء اعمالِ صالحہ کی بقا کا دوسرا طریق جو ہمیں اسلام میں نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی الہی سلسلہ کو قائم کرتا ہے اس لئے کہ وہ اس کی عظمت اور اس کے جلال کو قائم کرے تو اس برگزیدہ جماعت کو بحیثیت جماعت اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا ہونے کی وجہ سے اس دنیا میں بھی ایک لمبا عرصہ عزت کی زندگی عطا کی جاتی ہے اور صالحین کا بدل پیدا کر کے ان اعمالِ صالحہ کو اس وقت تک کہ اس قوم اور سلسلہ کی ہلاکت کا وقت آ جائے انہیں قومی بقا عطا کرتا ہے۔غرض يبقى وَجْهُ رَبَّكَ ذُو الْجَللِ وَالاِکرَامِ وہ اعمال جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر کئے جاتے ہیں جن میں غیر کی ملونی نہیں ہوتی۔جنہیں انسان بے نفس ہو کر اپنے اوپر عجز انکسار نیستی اور فنا طاری کر کے خود کو کچھ نہ سمجھ کر بلکہ اپنے رب کو ہی سب کچھ سمجھتے ہوئے۔اس کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لئے کوشش اور مجاہدہ کر کے بجالاتا ہے انہیں اس رنگ میں اس قوم میں باقی رکھا جاتا ہے کہ جب اس کے بعض افراد اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو ان کے بعض قائم مقام کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس قوم میں ان اعمالِ صالحہ کا ایک لمبا سلسلہ قائم کر دیتا ہے۔ہمارے جو بھائی کل ہم سے جدا ہوئے ہیں ان کا مقام اسی معنی میں جماعت میں قائم مقام کے طور پر بھی تھا۔یعنی جب بعض بزرگ تر ہستیاں جماعت سے جدا ہو ئیں تو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے جماعت میں ایسے لوگوں کو کھڑا کر دیا کہ جنہیں گومرنے والوں کی زندگی میں وہ مقام وجاہت ، مرتبہ اور علم حاصل نہ تھا جو مرنے والوں کا تھا۔لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے انہیں پہلوں کا سا مقام و جاہت مرتبہ اور علم دے دیا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔” حافظ روشن علی صاحب مرحوم۔میر محمد اسحاق صاحب اور مولوی محمد اسماعیل صاحب۔۔ان میں سے ایک کتابوں کے حوالے یا درکھنے کی وجہ سے اور باقی دو اپنے مباحثوں کی وجہ سے جماعت میں اتنے مقبول ہوئے کہ مجھے یاد ہے اس وقت ہمیشہ جماعتیں یہ لکھا کرتی تھیں کہ اگر حافظ روشن علی صاحب اور میر محمد اسحاق صاحب نہ آئے تو ہمارا کام نہیں چلے گا۔حالانکہ چند مہینے پہلے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی زندگی میں انہیں کوئی خاص عزت حاصل نہیں تھی۔