خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 415
خطبات ناصر جلد اول ۴۱۵ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ وہ اس کی ترقی کے سامان پیدا کرے وہ دعا کرے کہ اے اللہ ہم بد عمل تھے تو نے ہماری بد اعمالیوں پر اپنی مغفرت کی چادر ڈال دی۔ہم لاشے محض ہیں۔ہم میں کوئی قوت نہیں تو ہمیں قوت عطا کر کہ ہم تیری راہوں پر دوڑ نے لگ جائیں اور تجھ سے قریب سے قریب تر ہوتے چلے جائیں۔غرض ہر واقف کو اپنے وقف کے عرصہ میں یہ احساس بڑی شدت کے ساتھ ہوا کہ اسے استغفار کرنا چاہیے۔کیونکہ اس نے اپنی زندگی کے دن بڑی غفلت میں گزارے ہیں اور پھر اسے خدا تعالیٰ سے طاقت بھی مانگنی چاہیے کہ اس کی دی ہوئی طاقت کے بغیر ہم اس قسم کے دینی کام نہیں کر سکتے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے بہت سے فضلوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا بعض جگہیں ایسی بھی ہیں کہ جب وہاں واقفین عارضی پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ بعض غیر از جماعت دوستوں کو خوابوں میں بڑے زور کے ساتھ تلقین کی گئی اور انہیں متوجہ کیا گیا کہ جماعت احمد یہ ایک سچی جماعت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوے میں سچے اور حق پر ہیں تم اس جماعت میں شامل ہو جاؤ۔چنانچہ ان خوابوں کے ذریعہ بعض بیعتیں بھی ہوئی ہیں۔بہر حال جب آپ قرآن کریم پڑھا ئیں گے تو بہت سارے غیر از جماعت بچے بھی قرآن کریم پڑھنے کے لئے آجائیں گے اس طرح بہت سی غلط باتیں جو ہماری جماعت کے متعلق مشہور ہوگئی ہیں خود بخود ان کے دلوں سے دور ہو جائیں گی۔کیونکہ آپ کا عمل ایک زبر دست دلیل ہوگا۔وہ لوگ سمجھیں گے کہ کہا تو یہ جاتا تھا کہ یہ لوگ قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے اور عملاً ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف یہی لوگ ہیں جو قرآن کریم پڑھانے اور سکھانے کے لئے اپنے خرچ پر دور دراز سے آئے ہیں اور پھر یہ کام بھی بڑے شوق سے کر رہے ہیں یہ بیگار نہیں کاٹ رہے بلکہ چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔غرض وقف عارضی کی سکیم کے بہت سے فوائد ہیں جن کی تفصیل میں میں اس وقت نہیں جا سکتا۔ہاں میں یہ پھر تاکید سے ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے سال کے دوران کم از کم پانچ ہزار واقفین کی ضرورت ہے۔اگر دس ہزار واقفین مل جائیں تو اور بھی اچھا ہے۔تاہم جماعت کو قرآن کریم پڑھا سکیں۔اس کی ایسی تربیت کر سکیں کہ وہ قرآن کریم پر عمل کرنے