خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 395
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۹۵ خطبہ جمعہ ۱۶ رستمبر ۱۹۶۶ء کہ ہم نے محض الكتب “ ہی نہیں اتاری اور صرف کامل ہدایتیں ہی اس میں ہم بیان نہیں کرتے بلکہ ہم ان کی حکمتیں بھی بیان کرتے ہیں۔ہر ہدایت کی وجہ بھی بتاتے ہیں، اس کے نتائج پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ہم تمہارے سامنے ایک تصویر لا رکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو ہماری ہدایات سے منہ موڑتے ہیں ان کے ساتھ ہمارا کیا سلوک ہوتا ہے۔وہ مسل کے رکھ دیئے جاتے ہیں اور ہمارا قہر انہیں خاک اور راکھ کر چھوڑتا ہے۔اس کے برعکس جو لوگ ہماری ان ہدایات پر عمل کرتے ہیں ہم انہیں ایسا اچھا بدلہ دیتے ہیں اور انہیں اتنا خوشکن ثواب حاصل ہوتا ہے اور اصلاح نفس کے ایسے مواقع انہیں میسر آتے ہیں کہ نفس باقی ہی نہیں رہتا صرف ہماری محبت ہی باقی رہ جاتی ہے۔مختلف رنگوں میں اللہ تعالیٰ لوگوں کو قرآن کریم میں ہدایت کی راہیں بتلاتا ہے۔مثلاً وہ لوگ جنہوں نے پہلے رسولوں کا انکار کیا اور ان کی مخالفت کی ، جس قسم کی اور جس طرح انہیں سزائیں دی گئیں۔خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا بیان کثرت سے اس کتاب مجید میں پایا جاتا ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو ایمان لائے اور صدق و وفا سے انہیں خدا تعالیٰ کا پیار حاصل ہوا اور خدا تعالیٰ کی رحمتیں ان پر نازل ہوئیں ان کی بھی ایک تصویر ، ایک نقشہ قرآن کریم ہمارے سامنے رکھ رہا ہے۔پس قرآن نصیحت بھی کرتا ہے۔بعض باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور بعض باتوں سے روکتا ہے اور ساتھ ہی حکمتیں بھی بیان کرتا ہے کہ اس وجہ سے تمہیں ان باتوں سے روکا گیا ہے اور اس غرض کے لئے ان باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یہ سب باتیں مَوْعِظَةٌ کے اندر آ جاتی ہیں۔فرمایا ہماری یہ کتاب جو ہماری ربوبیت کے مظاہرہ کے لئے نازل کی گئی ہے ہم اس کے ذریعہ تمہاری نشو و نما کرنا چاہتے ہیں اس میں یہ خوبی ہے کہ یہ وعظ ونصیحت ہے۔دوسری بات جو قرآن کریم کے متعلق یہاں بیان ہوئی ہے وہ شِفَاء لِمَا فِي الصُّدُورِ ہے۔یعنی جو گند اور بیماری سینوں میں ہوتی ہے اس کے لئے یہ کتاب بطور شفاء کے ہے۔قرآن کریم میں تمام روحانی بیماریوں کا تعلق صدور یا دلوں سے قرار دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔