خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 394
خطبات ناصر جلد اول ۳۹۴ خطبہ جمعہ ۶ ار ستمبر ۱۹۶۶ء۔تعليم مَوْعِظَةٌ ( نصیحت) ہے اور اللہ تعالیٰ جس رنگ میں جن لوگوں کی گرفت کرتا ہے اور اپنے قہر اور غضب کا انہیں مورد ٹھہراتا ہے اور جس رنگ میں جن لوگوں پر اپنا فضل فرماتا ہے اور انہیں اپنی خوشنودی کے عطر سے ممسوح کرتا ہے۔ان کے واقعات ایسے رنگ میں بیان فرماتا ہے جو دلوں پر اثر کرنے والا اور دلوں کو نرم کرنے والا ہوتا ہے۔دوسرے یہ فرمایا کہ یہ کتاب شفَاء لِمَا فِي الصُّدُور ہے۔جو بیماریاں سینہ و دل سے تعلق رکھتی ہیں اس کتاب میں ان تمام بیماریوں کا علاج پایا جاتا ہے اور جو نسخے یہ کتاب تجویز کرتی ہے ان کے استعمال سے دل اور سینہ کی ہر روحانی بیماری دور ہو جاتی ہے۔تیسری بات جو قرآن کریم کے متعلق یہاں بیان فرمائی ہے۔وہ ھدی ہے۔یعنی اس کی تعلیم ہدایت پر مشتمل ہے۔وہ ان راہوں کی نشان دہی کرتا ہے۔جو اس کے قرب تک پہنچانے والی ہیں اور منزل بہ منزل بہتر سے بہتر ہدایت ان کی طاقت و استعداد کے مطابق ان کو عطا فرماتا ہے اور ہدایت کرتا چلا جاتا ہے حتی کہ بندہ اپنے اچھے انجام کو پہنچ جاتا ہے۔وہ اپنی جنت اور اپنے رب کی رضا کو حاصل کر لیتا ہے۔چوتھی بات قرآن کریم کے متعلق یہاں یہ بتائی گئی ہے کہ ایمان والوں کے لئے یہ رحمت کا موجب ہے یعنی جو لوگ بھی قرآن کریم کی بتائی ہوئی ہدایت پر عمل کرتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ جو بڑا احسان کرنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے اپنی رحمت کی آغوش میں لے لیتا ہے۔پہلی بات جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے قرآن کریم کے متعلق یہ بتائی گئی ہے کہ یہ مَوْعِظَةٌ ہے۔مَوْعِظَةً یا وعظ کے عربی زبان میں معنی ہوتے ہیں۔ایسی نصیحت جو جزا و سزا اور ثواب وعقاب کو اس طرح بیان کرنے والی ہو کہ اس سے دل نرم ہو جائیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور رجوع کریں اور ان میں یہ خواہش پیدا ہو کہ دنیا کی ہر چیز کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہی میں لگ جائیں۔اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایا ہے کہ ہم جو وعظ کرتے ہیں اور جس کا ذکر ہم نے قرآن کریم کے متعلق کیا ہے وہ یہ ہے وَ مَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَبِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُم بِهِ ( البقرة: ۲۳۲)