خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 390
خطبات ناصر جلد اول ۳۹۰ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء ہیں اور جو لوگ قرآنی احکام کے مطابق اپنی زندگیوں کو اس طرح ڈھالتے ہیں کہ واقع میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند بن جاتے ہیں اور جو لوگ سنت اللہ کو قائم کر کے اللہ تعالیٰ کے اس نور سے دنیا کو منور کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو نبی کریم کے وجود کے ساتھ آسمان سے نازل ہوا۔أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یہ لوگ ہیں جو دنیا میں بھی فلاح پانے والے ہیں اور آخرت میں بھی فلاح پانے والے ہیں۔پس بد رسوم اور ایمان کامل اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اس وقت مجھے اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔اسلام کی اشاعت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے جس قسم کی قربانی اور جس حد تک قربانی دینا ضروری ہے۔جوشخص رسوم کے بندھنوں میں بندھا ہوا ہے وہ اس حد تک قربانی نہیں دے سکتا۔بعض لوگ ہماری جماعت میں بھی ہیں جو مثلاً اپنی لڑکی کی شادی کرتے وقت خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے سادہ طریق کو چھوڑ کر اپنی خاندانی رسوم کے مطابق اسراف کی راہ اختیار کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں وہ مقروض ہو جاتے ہیں۔پھر مجھے لکھتے ہیں کہ میں بہت مقروض ہو گیا ہوں۔مہربانی کر کے میرے چندہ کی شرح کم کر دی جائے کیونکہ اب میں مجبوراً ۱/۱۶ کی بجائے ۱/۳۲ یا ۱/۵۰ یا ۱/۶۴ ادا کر سکتا ہوں اس سے زیادہ نہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے انہیں فرمایا تھا کہ تم رسوم کو چھوڑ دو اور بدعات کو ترک کر دو۔مگر انہوں نے رسوم کو نہ چھوڑا۔خدا تعالیٰ کی ناراضگی بھی مول لی اور قرض میں بھی مبتلا ہو گئے۔تو فرماتا ہے کہ وہ لوگ اس گروہ میں شامل نہ ہو سکے۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَعَذَرُوہ کہ وہ قربانیاں دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا اور شریعت اسلام کے قیام کے لئے کوشاں رہتا ہے میں نظارت اصلاح وارشاد کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ جتنی رسوم اور بدعات ہمارے ملک کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہیں ان کو اکٹھا کیا جائے اور اس کی نگرانی کی جائے کہ ہمارے احمدی بھائی ان تمام رسوم اور بدعات سے بچتے رہیں۔اس وقت میں مختصر ابتا رہا ہوں کہ جو شخص رسوم اور بدعات کو نہیں چھوڑ تا جس طرح اس کا ایمان پختہ نہیں اسی طرح وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد اور اسلام کی تقویت کے لئے وہ