خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 391 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 391

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۹۱ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء قربانیاں بھی نہیں دے سکتا جن قربانیوں کا اسلام اس سے مطالبہ کرتا ہے۔وَنَصَرُوهُ میں نفس کا محاسبہ اور اس کی اصلاح اور اس کو کمال تک پہنچانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔اس کے بہت سے معنی ہیں اور وہ مختلف شعبوں پر حاوی ہیں اور ہماری اصلاح کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔کیونکہ تمام نواہی سے بچنا تمام احکام کی پیروی کرنا، اخوت کی بنیاد قائم کرنا وغیرہ بہت سی باتیں اس کے اندر آتی ہیں لیکن جو لوگ رسوم میں مبتلا ہوں، بدعتوں کو جائز سمجھتے ہوں ، وہ دنیا میں اس قسم کا نمونہ پیش نہیں کر سکتے اور ان کے نفوس کی کامل اصلاح ممکن ہی نہیں ، کیونکہ رسوم کی پابندی کے ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیم کی پوری پابندی اور اس کی بیان فرمودہ ہدایت پر حقیقی معنی میں گامزن ہونا ناممکن ہے۔پس اگر ہم بدعتوں اور رسموں کے پابند رہیں گے اور اندھیرے میں ہی پڑے رہیں گے تو ہرگز اس نور سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے اور نہ ہی اس نور کے ذریعہ سے جو سنت اور جواسوۂ حسنہ دنیا میں قائم کیا گیا ہے ہم اس کی اتباع کر سکیں گے اور اگر ہم ایسا نہ کر سکیں گے تو نہ ہمیں اس دنیا میں فلاح حاصل ہوگی اور نہ ہی اُخروی زندگی میں۔پس ہر احمدی پر ، ہر احمدی خاندان اور ہر احمدی تنظیم پر یہ فرض ہے کہ وہ خود بھی اپنے آپ کو رسوم اور بدعتوں سے بچائے رکھے، محفوظ رکھے اور اس بات کی بھی نگرانی کرے کہ کوئی احمدی بھی رسوم و رواج کی پابندی کرنے والا نہ ہو اور بدعات میں پھنسا ہوا نہ ہو۔دنیا میں رسوم و بدعات کا عجیب جال بچھا ہوا ہے۔جب آدمی ان پر غور کرتا ہے تو حیران ہو جاتا ہے کہ خدا نے جس مخلوق (انسان) کو اشرف المخلوقات بنایا اور جس پر آسمانی رفعتوں کے دروازے کھولے وہ کس طرح اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتا ہے اور پھر کس طرح نور کی بجائے ظلمات میں آرام و راحت پاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو ان رسوم و بدعات سے محفوظ رکھے اور توفیق دے کہ ہم اس کی منشا کے مطابق اس آیہ کریمہ میں جس ایمان اور جس تعزیر اور جس نصرت اور جس اتباع کا حکم دیا گیا ہے اس کی پیروی کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے