خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 386 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 386

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۸۶ خطبہ جمعہ ۹ ستمبر ۱۹۶۶ء کیا جا رہا ہے یہ بھی ” تعزیر" کے معنی کے اندر آتا ہے۔کیونکہ ہمارے نوجوان اپنی زندگیوں کو وقف کرتے ہیں، ہر قسم کی تکالیف جھیلتے ہیں۔غیر معروف اور دور دراز علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور بہت کم رقوم میں جو انہیں دی جاتی ہیں ، گزارہ کرتے ہیں۔وہ ہر قسم کی تکالیف اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ عیسائیت کی جو یلغار اسلام کے خلاف جاری ہے اس کا مقابلہ کیا جائے۔جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ہمیں یقین ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بہت پیار کرتا ہے۔پس ابتداء اسلام کے زمانہ میں جہاد بالسیف اور زمانہ حاضرہ میں جہاد بالقرآن دونوں تعزیر “ کے اندر آتے ہیں کیونکہ تعزیر کے معنی میں یہ پایا جاتا ہے کہ کسی کی عظمت دل میں اتنی ہو کہ اس عظمت کی خاطر انسان اپنے نفس کو اور مال کو قربان کر رہا ہو، تا کہ ان منصوبوں کو جو اسے دکھ پہنچانے اور ضر ر دینے کے لئے کئے جارہے ہوں ناکام بنا دیا جائے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ نَصَرُوهُ فلاح دارین کے مستحق وہ لوگ ہیں جو اس کی نصرت اور مدد میں کوشاں رہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی ذاتی امداد کی ضرورت نہ تھی۔نہ آپ کو اس کی خواہش تھی۔آپ نے دیگر انبیاء کی طرح على الاعلان کہا مَا اسْتَلَكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرِ کہ جو کام میرے سپر د کیا گیا ہے میں اس پر تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔پس ہمیں یہاں نَصر کے معنی وہ کرنے ہوں گے جس معنی میں یہ لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس کا مفعول ہو۔یعنی جب یہ کہا جائے کہ فلاں شخص نے اللہ تعالیٰ کی مدد کی (نَصَرَ الله ) اور لغت عرب میں اس نُصرة کا مطلب یہ ہے کہ هُوَ نُصْرَتُهُ لِعِبَادِهِ وَالْقِيَامُ بِحِفْظِ حُدُودِهِ وَرِعَايَةِ عُهُودِهِ وَاعْتِنَاقِ أَحْكَامِهِ وَ اجْتِنَابِ نَهْيِهِ تو نَصَرُوهُ فرما کر یہ بیان فرمایا کہ قرب الہی کے عطر سے وہی لوگ ممسوح کئے جائیں گے اور حیات ابدی کے وہی وارث ہوں گے جو اخوت اسلامی کو قائم کرتے ہوئے بھائی بھائی کی طرح ایک دوسرے کے ممدو معاون ثابت ہوں گے اور شریعت حقہ نے جو حدود قائم کی ہیں اس کی بیان کردہ شرائط کے ساتھ