خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 339
خطبات ناصر جلد اول ۳۳۹ خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۶۶ء قرآن کریم سے جتنی بھی محبت کی جائے کم ہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ نا کافی ہے خطبہ جمعہ فرموده ۲۹ / جولائی ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔قرآن کریم ایک عظیم اور بڑی شان والی کتاب ہے اس سے جتنی بھی محبت کی جائے کم ہے اور اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے ناکافی ہے۔مگر یہ کتاب ہماری تعریفوں کی محتاج نہیں کیونکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی اس کی عظمت اور اس کی شان کو بیان کیا ہے۔جیسا کہ میں اپنے متعد دخطبات میں ان خوبیوں کا اشارہ اور مجملاً ذکر کر چکا ہوں جو مختلف مقامات پر قرآن کریم کی تعریف کرتے ہوئے بیان کی گئی ہیں۔آج میں سورہ مومن کی دو آیتیں اس سلسلہ میں احباب جماعت کے سامنے رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تَنْزِيلُ الْكِتَبِ مِنَ اللهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ - غَافِرِ الذَنْبِهِ وَ قَابِلِ التَّوبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ط ذِي القَولِ لَا اِلهَ اِلَّا هُوَ إِلَيْهِ الْمَصِيرُ - (المؤمن : ۳، ۴) مطلب یہ ہے ان آیات کا کہ اس کتاب کا نزول اس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جو غالب ہے، کامل غلبہ اور کامل عزت اسی کو حاصل ہے۔وہ کامل علم والا ہے۔تمام علوم کا سر چشمہ اسی کی ذات ہے۔وہ گناہوں کا بخشنے والا ہے۔خطا کار انسان کی خطاؤں پر وہی مغفرت کی چادر ڈالتا ہے اور کمزور اور مائل بہ گناہ انسان