خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 337
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۳۷ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء تو اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرمارہا ہے کہ اگر وہ ان کانوں سے صحیح کام لیتے جو ہم نے انکو عطا کئے تھے اور قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم جن خوبصورت الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔اس کی طرف یہ متوجہ ہوتے تو یقینا یہ تعلیم ان پر اثر کئے بغیر نہ رہتی۔اس کی واضح مثال ہماری تاریخ کے ابتداء اثر میں حضرت عمر کی پہلے اسلام کی مخالفت اور بعد میں ایمان لانے کا واقعہ ہے۔وہ پہلے قرآن کریم سننے کے لئے تو تیار نہ تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے تیار تھے (تفصیل میں جائے بغیر ) وہ ایک دن قرآن کریم سننے پر مجبور ہو گئے اور جب ان کے کان میں قرآن کریم کی شیر میں اور میٹھی آواز پہنچی تو بلا ساختہ اسلمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ کہنے پر مجبور ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ یہاں یہی فرماتا ہے کہ جو سن لے وہ عاشق ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن مشکل یہ ہے کہ یہ لوگ سننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔پس یہاں دسویں صفت کے طور پر اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے کہ قرآن کریم نہایت حسین الفاظ میں نہایت خوبصورت تعلیم دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے اگر دنیا اس تعلیم کو سننے کے لئے تیار ہو جائے تو وہ اس کو ماننے پر بھی مجبور ہو جائے۔یہی حال اس وقت ان لوگوں کا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز پر کان نہیں دھر تے جو لوگ بھی جب بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تفسیر قرآن سنتے ہیں یا پڑھتے ہیں یا سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اثر لئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔لیکن اکثر وہی ہیں جو سننے کو تیار نہیں ہیں جب ان کو سنایا جائے تو وہ گالیاں دیتے ہیں یا بے توجہی ، بے اعتنائی سے کام لیتے ہیں۔یا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم دنیوی دھندوں میں اس قدر پھنسے ہوئے ہیں کہ ہمارے پاس یہ خیالات سننے کے لئے وقت ہی نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ کی ایک ایسی آواز بھی آتی ہے کہ جو صاعقہ کے رنگ میں آسمان سے نازل ہوتی ہے اور انسان سننا چاہے یا نہ سننا چاہیے اس کے کان اس آواز سے پھاڑ دیئے جاتے ہیں اور ان کے جسموں کو مردہ کر دیا جاتا ہے اور ایسی قوموں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔قبل اس کے کہ وہ دن آئے ، خدا کرے کہ ساری دنیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آواز کو سننے لگے اور قرآن کریم کے معارف اور حقائق کا عرفان حاصل کرے۔