خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 314 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 314

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۱۴ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء ہی تھا جو ان کے ہاتھ میں تھا صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے دل میں تھا ، صرف قرآن کریم ہی تھا جو ان کے عمل میں نظر آ رہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں غلبہ عطا فرمایا اور ان کے مقابل آنے والی سب طاقتوں کو مٹادیا اور ایک کم مایہ، بے مایہ، کمزور و ناتواں اور غریب کو تمام دنیا کی طاقتوں کے مقابلہ میں کامیاب و کامران کر دیا۔اس کی ایک تازہ مثال میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اس مثال کا میں نے پہلے بھی ذکر کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۶۸ ء میں یہ اعلان فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے الہاما بتایا ہے کہ بادشادہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس وقت آپ کو بھی کوئی نہ جانتا تھا، قادیان کو بھی کوئی نہ جانتا تھا۔جماعت احمدیہ کو بھی کوئی نہ جانتا تھا بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نہ جانتے تھے۔کیونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم سے جماعت کا قیام نہیں کیا گیا تھا اور بیعت بھی شروع نہ ہوئی تھی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی کی اور قریباً سو سال تک مخالف کو موقع دیا کہ جتنا چاہو استہزاء کر لو، مذاق کر لو، ٹھٹھا کرلو، طعنے دے لو۔یہ کلام ہمارا ( عزیز خدا کا کلام ہے جو ایک دن پورا ہوکر رہے گا۔اس سال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ سامان پیدا کر دیئے۔( دو کم سو سال کے بعد ) جب اس عرصہ میں ایک نیا ملک بنایا گیا۔پھر الہی تدبیر کے ماتحت اس ملک کو آزادی دلائی گئی۔پھر الہی منشا کے مطابق جب اس ملک کی اپنی حکومت بنی تو اس کا سر براہ اور اس کا Acting گورنر جنرل اس شخص کو مقرر کیا گیا جو تقرر کے دن سے پہلے جماعت احمد یہ گیمبیا کا پریذیڈنٹ تھا۔اس طرح جماعت احمدیہ کے پریذیڈنٹ کو گورنر جنرل بنادیا گیا۔پھر ان کو ہمارے مبلغ نے توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کی ایک بشارت ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے تم خوش نصیب انسان ہو کہ دنیا کی تاریخ میں تمہیں پہلی دفعہ یہ موقع مل رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے تم برکت حاصل کر سکو مگر یہ کوئی معمولی چیز نہیں۔اس لئے قبل اس کے کہ تم اس کے متعلق خلیفہ وقت کو اپنی درخواست بھجوا ؤ چالیس دن تک چلہ کرو۔یعنی خاص طور پر دعائیں کرو۔اس قسم کا چلہ نہیں جو صوفیا اور فقراء کیا