خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 296
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۹۶ خطبہ جمعہ ۲۴ جون ۱۹۶۶ء اس کی اتباع کے نتیجہ میں جو بدلہ ہمیں ملے گا وہ بدلہ بھی عقلاً اجر کریم ہونا چاہیے اور خدا تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ہم اس کی اتباع کے نتیجہ میں اجر کریم دیں گے۔فرمایا۔تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلَمُ وَاَعَدَّ لَهُمُ اَجْرًا كَرِيمًا - (الاحزاب : ۴۵) اس آیت سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے۔آپ کے خاتم النبیین ہونے کا ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا ذکر دنیا میں بلند ہو گا اور آپ کو ایسی جماعت دی جائے گی جو اس کی یاد میں صبح و شام مشغول رہنے والی ہوگی اور قرآن کریم کی پیروی کرنے والی ہوگی اس کا نتیجہ کیا ہوگا ؟ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انہیں اجر کریم ملے گا۔فرما یا کہ جب یہ لوگ اجر دیئے جائیں گے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ان کا حساب کرے گا اور پھر خدا کا تحفہ سلامتی کی شکل میں انہیں ملے گا۔یہ اجر ، اجر کریم ہو گا بڑی عزت والا ہوگا اور ایسا بدلہ ہو گا کہ وہ خود بتا رہا ہو گا کہ خدا ان سے راضی ہے اور ان کے دل اور روح پکار رہی ہو گی کہ وہ اس بدلہ سے راضی ہوئے ہیں۔رضی اللہ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ - (المجادلة: ۲۳) پس ان کے لئے قرآن کتاب کریم ہے اس سے بہتر کتاب دنیا میں نہیں ہو سکتی اس لئے اس کی اتباع کے نتیجہ میں جو بدلہ دیا جائے گا وہ بھی اجر کریم ہوگا اور جو بدلہ دینے والی ذات ہوگی وہ آپ کریم ہے۔اسی طرح فرما یا :۔إِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِكرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرُهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ - (ليس : ۱۲) الد گر قرآنی محاورہ میں خود قرآن کریم کو کہا گیا ہے۔فرمایا جو قرآن کریم کی اتباع کرنے والا ہے اُسے تو اے نبی ! مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دے۔مَغْفِرَةٌ کے معنی دراصل کریم کے اندر پائے جاتے ہیں۔اس کا جز ولازمی ہے۔کیونکہ انعام وہاں شروع ہوتا ہے جہاں مَغْفِرَ ا ختم ہوتی ہے۔جب تک گناہوں کی معافی نہ ہو انعامات کے حصول کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس واسطے کریم کے لغوی معنوں میں مَغْفِرَةٌ کا مفہوم آ جاتا ہے۔کریم کے معنی ہیں صفیع