خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 276

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۳/ جون ۱۹۶۶ء دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں یک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا ؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں جو اس اُمی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلّمْ وَبَارِک عَلَيْهِ وَالِهِ بِعَدَدِ هَيْهِ وَغَيْهِ وَحُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَاَنْزِلْ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ اس میں شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ہرشان ایک بے مثال مقام رکھتی ہے۔اور کوئی دوسرا اس تک نہیں پہنچ سکتا آپ کے ایک فرزند جلیل مہدی معہود علیہ السلام آپ کے قریب تک پہنچے مگر آپ کی شان آپ ہی کی شان ہے۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ باوجود اس کے کہ ہر رنگ اور ہر لحاظ سے آپ بے مثال ہیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ایک اسوۂ حسنہ بنا کر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔پس ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ اس میدان میں بھی جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔اس قسم کا سوز و گداز اور باخِعٌ نَفْسَكَ (الكهف : - ) والی کیفیت پیدا کریں کہ جو ہمیں آپ کے ساتھ ملتا جلتا بنادے آپ کا رنگ ہم پر چڑھا ہو۔اس لئے میں اپنے بھائیوں سے کہوں گا کہ آپ (بشمولیت خاکسار ) کامل یقین ، کامل امید ، کامل توکل ، کامل محبت ، کامل و فاداری، کامل تذلل اور فروتنی کے ساتھ جھکیں اور نہایت درجہ چوکس اور بیدار ہو کر غفلت ، دوری اور غیریت کے ہر پردہ کو چیرتے ہوئے فنا کے میدانوں میں آگے ہی آگے نکلتے چلے جائیں یہاں تک کہ بارگاہِ الوہیت پر پہنچ کر اپنے دل اور دماغ، اپنے جسم اور اپنی روح اس کے حضور پیش کر کے اس سے ان الفاظ میں ملتجی ہوں کہ ”اے ہمارے قادر و توانا خدا! ہماری عاجزانہ دعائیں سن ! اور تمام اقوام عالم کے کان ، آنکھ اور دل کھول دے کہ وہ تجھے اور تیری تمام صفات کا ملہ کو شناخت کرنے لگیں اور توحید حقیقی پر قائم ہو جائیں۔معبودانِ باطلہ کی پرستش دنیا سے اُٹھ جائے اور زمین پر