خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 275

خطبات ناصر جلد اول ۲۷۵ خطبہ جمعہ ۳/ جون ۱۹۶۶ء سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض اور ہماری زندگی کی غایت یہ ہے کہ تمام اقوامِ عالم حلقہ بگوش اسلام ہوں خطبه جمعه فرموده ۳/ جون ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔آج میں پھر اپنے بھائیوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ دعاؤں پر بہت زور دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد ، سلسلہ عالیہ احمد یہ کے قیام کی غرض اور ہماری زندگی اور وجود کی غایت ہی یہ ہے کہ تمام اقوام عالم حلقہ بگوش اسلام ہو جائیں اور اسلام تمام ادیان باطلہ پر غالب آ کر سب دنیا میں پھیل جائے مگر جنہیں ظاہری اور مادی سامان اور اسباب اور ذرائع میسر نہیں جن سے کام لے کر ایسا ممکن ہو۔حق تو یہ ہے کہ مادی وسائل اور مادی اسباب ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی میسر نہ تھے فتح و کامرانی کے جو نظارے دنیا نے آپ کے ہاتھ پر دیکھے وہ ظاہری سامانوں کے مرہون نہ تھے۔پھر وہ معجزانہ انقلاب عظیم کیوں اور کیسے پیدا ہوا کہ پہلے عرب اور پھر معروف دنیا کی سب وحشی اقوام، شیطان کی غلام، یکدم اپنی وحشت اور درندگی کو چھوڑ کر شیطان سے منہ موڑ کر عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اپنے ربّ ، اپنے پیدا کرنے والے کے آستانہ پر آگریں اس کیوں کا جواب دیتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گزرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے