خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 274
خطبات ناصر جلد اول ۲۷۴ خطبہ جمعہ ۲۷ رمئی ۱۹۶۶ء یہ زندگی مختلف کاموں پر مشتمل ہوتی ہے۔بعض کام وقتی اور عارضی نتیجہ پیدا کرنے والے ہوتے ہیں ان میں بھی وہی کام اچھا ہے جس کا انجام اچھا ہو۔بعض اعمال کا نتیجہ ابدی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ان اعمال کا نتیجہ اس دنیا میں نہیں بلکہ اس دنیا سے گزر جانے کے بعد نکلتا ہے۔یہ انسان کے اعمال کا آخری نتیجہ ہے۔اگر اس آخری نتیجہ میں ہم کامیاب ہوں اگر اس لحاظ سے ہمارا انجام بخیر ہو تو پھر ہمیں اللہ تعالیٰ کی رضاء کی ٹھنڈی چھاؤں ملتی ہے جس چھاؤں میں بیٹھ کر ہم خدا کی رحمتوں سے ابدی سرور حاصل کرتے ہیں اور یہی وہ کامیابی ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :۔لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَمِلُونَ اللہ تعالیٰ ہمیں اس قسم کے کاموں کی ہمیشہ تو فیق عطا فرما تا رہے تا کہ ہم جب اس دنیا کو چھوڑ کر اس کے حضور حاضر ہوں تو اس کے منہ سے یہ پیارے کلمات ہمارے کان بھی سنیں۔إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ - لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَمِلُونَ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے ہی ایسا ہو سکتا ہے اور اسی پر توکل رکھتے ہوئے اس کے فضلوں اور احسانوں کی ہم امید رکھتے ہیں۔(روز نامه الفضل ربوه ۲۲ جون ۱۹۶۶ ء صفحه ۴)