خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 271 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 271

خطبات ناصر جلد اول ۲۷۱ خطبه جمعه ۲۰ مئی ۱۹۶۶ء بار بار پورا ہونا ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرت کی یہ تجلی جس نے بار بارا اپنی چہکار دکھانی ہے اس کی پہلی چمکا رہم نے ۱۹۶۶ ء میں دیکھی اور یہ اس طرح کے گیمبیا کے سر براہ الحاج نے مجھے ۱/۴ پریل کو خط لکھا کہ یہاں کے مقامی مبلغ نے مجھے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک مملکت کا سر براہ بنایا ہے اور احمدیت ( حقیقی اسلام ) کے قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔یہ موقع ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا منگوا لو اور اس سے برکت حاصل کرو۔لیکن یہ ایک بڑی ذمہ داری ہے اس لئے پہلے تمہیں دعا اور مجاہدہ سے کام لینا چاہیے کہ تمہیں جو تبرک ملے اس کی قدر کر سکو۔تو انہوں نے مجھے لکھا کہ میں نے چالیس دن تک نوافل ادا کئے ہیں اور اپنی روحانی ترقی کے لئے دعا مانگی ہے اور اپنے رب سے درخواست کی ہے کہ اے اللہ ! میں تیرا عاجز بندہ ہوں۔تو نے ہی مجھے توفیق دی کہ میں اسلام اور احمدیت کو قبول کروں اور پھر تو نے مجھے دنیوی وجاہت بھی دی ہے اور اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔سو تو مجھے توفیق دے کہ میں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے برکت حاصل کروں۔انہوں نے یہ حال تحریر کر کے پھر مجھ سے درخواست کی کہ آپ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑے کا ایک ٹکڑا بھجوا دیں تا کہ میں اس سے برکت حاصل کرسکوں۔پس یہ پہلی چہکار ہے جو تاریخ احمدیت کے افق پر ہمیں نظر آئی اور اسے دیکھ کر ہر شخص یہ یقین کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں متوجہ کر رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو وعدہ کیا گیا تھا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔اس وعدہ کے پورا ہونے کے دن قریب آہے ہیں۔اس لئے جتنی بھی توفیق ملے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں اور جتنی قربانیاں بھی ہم دے سکیں وہ دینی چاہئیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہماری بستیوں اور غفلتوں کے نتیجہ میں پیچھے نہ ڈال دیئے جائیں۔عاجزانہ اور متضرعانہ دعاؤں سے اور تذلل اور انکسار کے طریق سے جدو جہد جاری رکھیں تا کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ جلد از جلد وہ دن لائے کہ جس میں تمام وہ بادشاہ جن کے مقدر