خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 252
خطبات ناصر جلد اول ۲۵۲ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء کے شکر گزار بندے بنتے ، انہوں نے اپنے ہی خالق و مالک کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا ہے اور یہ دعوی کیا ہے کہ وہ اس کرہ ارض سے خدا تعالیٰ کے نام کو مٹا دیں گے۔وہ اس کی طاقت تو نہیں رکھتے لیکن تکبر کی وجہ سے اس دعویٰ کا اعلان ضرور کرتے ہیں یا مثلاً عیسائی اقوام کو الہی منشا کے مطابق اور اسی کے علم سے دنیا میں ایک برتری حاصل ہوئی اور علم کے میدان میں بھی اور دنیا کی ایجادات کے میدان میں بھی انہوں نے بہت ترقی کی۔اس ترقی کے بعد بجائے اس کے کہ وہ خدائے واحد و یگانہ کی طرف جھکتے اور حمد کرتے ہوئے اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے۔انہوں نے اس کے مقابلہ پر اپنا تمام زور، اپنی تمام طاقت اور اپنے تمام اموال ، یسوع مسیح کی خدائی کو ثابت کرنے میں لگا دیئے۔غرض اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تکبر اس قسم کا گھناؤنا گناہ ہے ایسی بدی ہے کہ شرک کے راستے اسی کے چوراہے سے پھٹتے ہیں اور انسان نے جب بھی اللہ تعالیٰ کے مقابل کسی اور کو شریک قرار دیا تو تکبر ہی اس کی وجہ بنی تھی اور انہوں نے ان چیزوں کو جو ان کی طرف منسوب ہوتی تھیں۔اس پاک وجود کے مقابلہ میں جو ہر مخلوق کی طرف منسوب ہوتا ہے اور ہر مخلوق اس کی طرف منسوب ہونے والی ہے زیادہ عظمت دے دی۔پس تکبر ایسا گناہ کبیرہ اور ایسی بدی ہے جس کے مقابلہ میں کسی اور گناہ اور بدی کو بڑا قرار نہیں دیا جا سکتا اور شرک کی بدی تکبر سے ہی پھوٹتی ہے۔دوسری چیز جو تکبر کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے وہ الہی اور آسمانی تعلیم سے محرومی ہے اللہ تعالیٰ سورۃ بقرہ میں فرماتا ہے:۔افعلمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهُوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ (البقرة: ۸۸) یعنی جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول اس تعلیم کو لے کر آیا جسے تمہارے نفس پسند نہیں کرتے تھے تو تم نے تکبر کا مظاہرہ کیا یعنی اپنی بد عادات، گندی روایات، بد رسوم اور جھوٹے اعتقادات کو اپنے تکبر کی وجہ سے آسمانی تعلیم سے بہتر سمجھا اور آسمانی تعلیم کو اپنے تکبر کی وجہ سے تم نے ٹھکرا دیا۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ جن لوگوں میں تکبر پایا جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو صاحب عظمت، صاحب رفعت اور صاحب طاقت و دولت سمجھتے ہیں اور دوسروں کو