خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 234
خطبات ناصر جلد اول ۲۳۴ خطبہ جمعہ ۲۲ را پریل ۱۹۶۶ء کرتا چلا جائے گا اور وہ پہلے آنے والوں کی نسبت پیچھے رہنے والے نہیں بنیں گے بلکہ کچھ عرصہ کے بعد شاید وہ ان سے بھی آگے بڑھنے کی کوشش شروع کر دیں۔وہ اس احساس سے آگے بڑھیں گے کہ ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمین پر جو ایک نور نازل ہوا تھا ہم ایک لمبے عرصہ تک اس نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانے کی کوشش کرتے رہے اور بجائے اس کے کہ ہم اس نور سے اپنے سینہ و دل کو منور کرتے ہم نے اس سے منہ پھیر لیا۔پس یہ نہایت ہی ضروری بات ہے کہ بجٹ پورا بنایا جائے۔اگر باوجود میری اس تاکید کے ہمارے عہد یداروں نے غفلت برتی تو ان کی غفلت کو دور کرنے کے لئے مجھے مناسب قدم اُٹھانا پڑے گا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے اس روحانی تکلیف میں نہیں ڈالیں گے۔تیسری بات جو میں صدر انجمن احمدیہ کے بجٹ کے متعلق کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ قریباً دو ہفتے ہوئے میں نے جماعت کو متوجہ کیا تھا کہ ہمارا مالی سال قریباً ختم ہو رہا ہے آپ اس ماہ کے اندراندرا اپنا بجٹ پورا کرنے کی کوشش کریں مجھے ایسا کہنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ آپ میں سے اگر سارے نہیں تو بیشتر ایسے ہیں جو اپنا بجٹ ماہ بہ ماہ پورا نہیں کرتے اور انتظار کرتے ہیں کہ سال کے آخری دوماہ میں بجٹ کو پورا کر دیں گے۔اس میں شک نہیں کہ دیہاتی جماعتیں ماہانہ چندہ نہیں دیتیں اور نہ ہی دے سکتی ہیں کیونکہ ان کی آمد کا انحصار فصلوں پر ہوتا ہے اور فصلیں ہر ماہ نہیں کاٹی جاتیں۔سال کے دو موسم ہیں جن میں فصلیں کائی جاتی ہیں اور وہی دو موسم ہیں جن میں ہماری دیہاتی جماعتیں اپنے چندے ادا کرتی ہیں۔پس دیہاتوں میں دو دفعہ چندہ ادا کرنے کا وقت ہوتا۔تا ہے۔لیکن وہ جماعتیں یا جماعتوں کا وہ حصہ جن کی آمد ششماہی نہیں بلکہ ماہانہ ہوتی ہے۔ان سے چندے ماہوار ہی وصول ہو جانا چاہئیں اس سے نہ صرف یہ فائدہ ہوگا کہ ہمیں آخر سال میں زیادہ کوفت برداشت نہ کرنی پڑے گی بلکہ اس سے بڑھ کر ہمیں یہ فائدہ بھی ہوگا کہ ہماری روحانیت ترقی کرے گی کیونکہ وہ روحانی غذا جو معین وقفہ کے بعد کھائی جائے اس سے روحانیت ترقی کرتی ہے۔جسمانی غذا کو لیجئے ! پانچ دن کے بعد پانچ دن کا کھانا کھا لینے سے انسان کی جسمانی قوت