خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 8 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 8

خطبات ناصر جلد اوّل خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۶۵ء واپس جائیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں تفرقہ پیدا نہیں ہوا اور ہمارا جو فرض تھا آرام کے ساتھ ہم اس سے سبکدوش ہو گئے۔اس مسجد میں جو لوگ بھی اس اجلاس میں شامل تھے۔میرا یہی احساس تھا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی وہ نہ رہا تھا جو پہلے تھا۔یعنی اس کے دماغ پر بھی اللہ تعالیٰ کا تصرف تھا۔اس کی زبان پر بھی خدا تعالیٰ کا تصرف تھا نہ کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی کوئی جھگڑا۔سب ایک نتیجہ پر پہنچ گئے اور اللہ تعالیٰ نے اس طرح پر یہ پیشگوئی پوری کی کہ یہ آخری ابتلا ہے۔دشمن اس قسم کی خوشی پھر نہ دیکھے گا۔چنانچہ بعض غیر مبائع اکابر کو یہ کہتے بھی سنا گیا ہے کہ سچی بات یہی ہے کہ خلافت کے بغیر جماعت ترقی نہیں کر سکتی اور اگر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ انتخاب خلافت کے متعلق اس قسم کے قواعد بنا جاتے جو حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت پر احسان کرتے ہوئے بنائے تو پھر ۱۹۱۴ ء والا تفرقہ پیدا ہی نہ ہوتا۔تو حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کوجو اللہ تعالیٰ نے بتایا وہ ایک زبر دست پیشگوئی تھی کہ ہم تجھے تو فیق دیں گے۔کہ تم جماعت کی تربیت ایسے رنگ میں کر سکو کہ جب تمہیں ہمارا بلا وا آوے تو تمہیں یہ غم اور فکر نہ ہو کہ جب میں اس گھر میں داخل ہوا تھا۔تو اس وقت بھی ایک فتنہ تھا اور جب میں اس گھر سے جارہا ہوں تو اس وقت بھی ایک فتنہ چھوڑ کے جار ہا ہوں۔بلکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی تھی۔کہ جب تم اس دنیا کو چھوڑو گے تو یہ فتنہ کبھی پیدا نہ ہوگا۔جس کو تم نے شروع میں دیکھا تھا۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں نے اپنا کام دکھایا۔اور جماعت کو اس طرح متحد اور متفق کر دیا۔کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مصرعہ کہا ہے۔ہر سینہ شک سے دھو دیا ہر دل بدل دیا یہ وہ نظارہ تھا۔جو ہمیں اس وقت نظر آرہا تھا۔مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے لوگوں میں بھی اور باہر بیٹھے لوگوں میں بھی۔ہر آدمی کی اپنی طبیعت، اپنا خیال، اپنی سوچ و بچار، اپنا فکر و تد بر ہوتا ہے لیکن