خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 209
خطبات ناصر جلد اوّل ۲۰۹ خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۶۶ء نہیں سکتی !!! لیکن اس راہ میں انتہائی قربانی پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔یہ کام جو ایک احمدی کے سپرد ہے احمدی نوجوان کے بھی ، احمدی بوڑھے کے بھی ، احمدی مرد کے بھی ، احمدی عورت کے بھی اور احمدی بچے کے بھی !!! اس وسیع کام کا ایک حصہ جو شاید اس کام کا ہزارواں حصہ بھی نہ ہو۔مجالس خدام الاحمدیہ، انصار الله، لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ کے سپرد کیا گیا ہے تاکہ ان مختلف گروہوں کی تربیت ایسے رنگ میں کی جا سکے۔یا ان کی تربیت ایسے طور پر قائم رکھی جاسکے کہ وہ اس ذمہ داری کو کما حقہ ادا کر سکیں جو ایک احمدی کی حیثیت سے ان کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے۔پس مجلس خدام الاحمدیہ یا مجلس انصار اللہ کا رکن ہونے کی حیثیت سے تم پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ بہت ہی محدود ہے۔اس محدود ذمہ داری کو ٹھیک طرح نباہ لینے کے بعد اگر کوئی رکن خوش ہو جاتا ہے کہ جتنی ذمہ داری بھی بحیثیت احمدی ہونے کے اس پر ڈالی گئی تھی وہ اس نے پوری کر دی تو وہ غلطی خوردہ ہے۔کیونکہ جو ذمہ داری اس پر ایک احمدی ہونے کی حیثیت سے ڈالی گئی ہے یہ ذمہ داری اس کے مقابل پر شاید ہزارواں حصہ بھی نہیں۔اس پر خوش ہو کے بیٹھ جانا بڑی خطر ناک بات ہے۔یہ ہمارے لئے سوچ اور فکر کا مقام ہے اور اس کے لئے خطرہ کا مقام ہے اسی طرح اگر جوانی کے جوش میں یا اپنے تجربہ کے زعم میں وہ اپنے حدود سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے تو بھی وہ اچھا کام نہیں کرتا۔جو جماعتی نظام کی ذمہ داری ہے وہ جماعتی نظام نے ہی ادا کرنی ہے اور تم نے جماعت کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اس میں حصہ لینا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مجالس خدام الاحمد یہ اور مجالس انصار اللہ اتنی زیر الزام نہیں آتیں جتنے کہ جماعتی عہدیدار۔حضرت مصلح موعود (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے مجالس خدام الاحمدیہ اور مجالس انصار اللہ کے متعلق یہ ارشا د فر ما یا تھا کہ میں نے ایک محدود کام محدود دائرہ عمل میں ان تنظیموں کے سپر د کیا ہے۔جماعتی نظام کو میں یہ حق نہیں دیتا کہ وہ ان کے کاموں میں دخل دے کوئی عہدیدار پریذیڈنٹ ہو یا امیر، امیر ضلع ہو یا امیر علاقائی ، اس کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ خدام الاحمدیہ کے کام میں دخل دے یا انہیں حکم دے لیکن میں اجازت دیتا ہوں