خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 207
خطبات ناصر جلد اول غضب کے مورد ہو گے۔۲۰۷ خطبہ جمعہ ۸ ا پریل ۱۹۶۶ء پس قرآن کریم کا ہر ایک حکم واجب العمل ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنی ہو اور قرآن کریم کی ہر نہی ( ہر وہ بات جس سے قرآن کریم روکتا ہے اس سے بچنا ضروری ہے۔اگر ہم رضاء الہی کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔پس یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے جس کی طرف میں جماعت کو متوجہ کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ یہ تیرے لئے بھی ذکر ہے اور تیری قوم کے لئے بھی ذکر ہے۔یعنی یہ ایک ایسی تعلیم ہے جس کے نتیجہ میں تو بھی اور تیری قوم بھی اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی شرف اور عزت حاصل کر لو گے۔اس لئے یاد رکھو کہ اگر تم نے اس طرف توجہ نہ کی تو تم سے سوال کیا جائے گا اور تمہارا محاسبہ ہوگا۔در اصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرمان اس آیت کی تفسیر میں ہے وَ إِنَّهُ لَذِكُرُ لَكَ وَلِقَوْمِكَ وَسَوْفَ تُستَلُونَ (الزخرف: ۴۵) قرآن کریم کہتا ہے کہ تم سے سوال کیا جائے گا کہ دنیا میں عزت کے حصول کے لئے اور دنیا میں شرف حاصل کرنے کے لئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک حسین ترین تعلیم ہم نے تمہاری طرف بھیجی تھی۔بتاؤ تم نے کہاں تک اس پر عمل کیا۔عمل کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہمیں اس کا علم ہو اور ہمیں اس سے پوری واقفیت ہو۔اگر ہم قرآن کریم کو نہیں پڑھتے اور اس کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو پھر ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم قیامت کے روز ہمارے حق میں گواہی دے گا کہ اے میرے رب ! تیرے اس بندے نے تیری اس تعلیم کو پڑھا اور سمجھا اور پھر اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کی۔ظاہر ہے کہ ان دو باتوں میں اتنا تضاد اور تناقض ہے۔ہم ایک لحظہ کے لئے بھی یہ تصور نہیں کر سکتے کہ نہ ہمیں قرآن کریم ناظرہ پڑھنا آتا ہے اور نہ ہمیں اس کا ترجمہ آتا ہے اور نہ ہم اس کے معانی سمجھنے کی کوشش کریں اور نہ اس پر عمل کریں پھر بھی قیامت کے روز خدا تعالیٰ ایسے سامان اور حالات پیدا کر دے گا کہ خدا تعالیٰ کا یہی قرآن ہمارے حق میں گواہی دے۔اس قسم کا تصور