خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 206 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 206

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۱/۸ پریل ۱۹۶۶ء توجہ دی جانی چاہیے۔امراء اضلاع جماعت کے مستعد اور مخلص احباب کو اپنی ذمہ داری کی طرف متوجہ کریں تا زیادہ سے زیادہ احمدی اس مقصد کے پیش نظر اور خدمتِ اسلام کے لئے اپنے وقت کا ایک تھوڑا اور حقیر ساحصہ پیش کریں۔میں امید کرتا ہوں کہ تمام امراء اضلاع یکم مئی سے پہلے پہلے اپنی رپورٹ اس سلسلہ میں مجھے بھجوا دیں گے۔(۴) ایک اور منصوبہ جو میں نے جماعت کے سامنے پیش کیا تھا اور وہ بنیادی اہمیت کا حامل اور بہت ضروری ہے وہ یہ تھا کہ ہم میں سے کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے جو قرآن کریم ناظرہ نہ پڑھ سکتا ہو اور اس کے بعد اسے ترجمہ سکھایا جائے۔حتی کہ ایک وقت ایسا آجائے کہ کوئی احمدی بھی ایسا نہ رہے جو قرآن کریم کا ترجمہ نہ جانتا ہو۔اس منصوبہ کے لئے میں نے لاہور کی جماعت اور سیالکوٹ کا ضلع مجلس خدام الاحمدیہ کے سپرد کیا تھا اور کراچی کی جماعت اور جھنگ کا ضلع مجلس انصار اللہ کے سپرد کیا تھا اور باقی تمام جماعت کا کام نظارت اصلاح وارشاد نے کرنا تھا۔اس سلسلہ میں بھی کچھ کام ہوا ہے لیکن میرے نزدیک ابھی وہ کام تسلی بخش نہیں۔کوئی جماعت ایسی نہیں رہنی چاہیے کہ جہاں قرآن کریم پڑھانے کا انتظام نہ ہو۔اس منصوبہ کے ماتحت ایک خوشی جو مجھے پہنچی وہ تو یہ ہے کہ بعض لوگوں نے انفرادی طور پر اس طرف توجہ دی اور انہوں نے اپنے حلقہ میں قریباً سارا وقت ہی قرآن کریم کے پڑھانے کے لئے پیش کر دیا۔وہ بڑا اچھا کام کر رہے ہیں اور مجھے رپورٹ بھی بھجوا رہے ہیں۔لیکن اس مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے محض چند افراد کی خوشکن رپورٹیں کافی نہیں بلکہ ساری جماعت کو جماعتی لحاظ سے اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔قرآن کریم ہماری زندگی اور ہماری روح ہے۔ہماری روحانی بقا کا انحصار قرآن کریم پر ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا ہے ( شاید ایک جگہ سے زیادہ ہی جگہوں پر فرمایا ہو ) کہ قیامت کے دن قرآن کریم تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف گواہی دے گا۔اگر قرآن کریم کی گواہی تمہارے حق میں ہوئی تو تم اللہ تعالیٰ کی رضاء کو حاصل کر لو گے اور اگر قرآن کریم کی گواہی تمہارے خلاف ہوئی تو تم خدا تعالیٰ کے