خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 192
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۹۲ خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء ہم تمہیں ہدایت دیتے ہیں کہ جس وقت یہ دیوار تمہارے سامنے آجائے اور تم کو محسوس ہونے لگے کہ آگے بڑھنے کا راستہ مسدود ہو گیا ہے اور ان اقوام کے دلوں کو فتح کرنا بظا ہر ناممکن ہے یا درکھو کہ اس وقت صبر اور صلوٰۃ کے ساتھ میری مدد اور نصرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔صبر کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ انسان استقلال کے ساتھ بُرائیوں سے بچنے کی کوشش کرتا رہے۔یعنی اُسے اپنے نفس پر اتنا قابو ہو کہ وہ کبھی بے قابو ہوکر گناہ کی طرف مائل نہ ہو دوسرے معنی یہ ہیں کہ انسان نیکی پر ثابت قدم رہے اور دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کا کوئی وسوسہ اور دنیا کا کوئی دجل صدق کے مقام سے مومن کا قدم پرے نہ ہٹا سکے اور صبر کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی نازک وقت اور مشکل پیش آئے اور دل میں شکوہ پیدا ہو تو وہ اسے خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرے۔إِنَّمَا اشْكُوا بَى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ (يوسف : ۸۷) یعنی اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمہاری امداد اور نصرت کے سامان پیدا کرے گا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ ہم نے تمہیں مادی سامان بہت کم دیتے ہیں لیکن جتنا بھی تمہیں ملا ہے مال کے لحاظ سے، طاقت کے لحاظ سے، وقت کے لحاظ سے،عزت کے لحاظ سے ( کروڑوں نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں) جو کچھ بھی ہماری نعماء سے تمہیں ملا ہے۔اگر تم اس کا صحیح استعمال کرو اور قربانی کے ان تقاضوں کو پورا کر وجوتم پر عائد ہوتے ہیں اور کبھی اپنی نگاہ میری ذات سے ہٹا کر کسی اور کی طرف نہ لے جاؤ بلکہ اپنی کمزوری، ناتوانی ، بے بضاعتی اور بے بسی کا رونا صرف میرے سامنے ہی روؤ اور خوشی کے ساتھ نیکیوں پر قائم ہو جاؤ اور جو تدا بیر بھی تم کر سکتے ہو۔ان تدابیر کو اپنے کمال تک پہنچاؤ تو میں تمہاری مدد اور نصرت کے سامان کر دوں گا۔پھر صلوۃ ہے اس کے ایک معنی تو اس نماز کے ہیں جو ہم پنج وقتہ ادا کرتے ہیں پھر کچھ سنتیں ہیں کچھ نوافل ہیں ( جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے وہ نوافل بھی ادا کرتے ہیں ) یہ سارے معنی صلوۃ کے لفظ میں آ جاتے ہیں۔پس صلوۃ کے ایک معنی اس خاص عبادت کے ہیں جو اسلام میں ایک مسلمان کے لئے لازم کی گئی ہے۔