خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 191
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۹۱ خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء دیکھتے ہیں کہ بعض خاندان جو احمدیت میں داخل ہوتے ہیں وہ کچھ بدرسوم بھی اپنے ساتھ لے آتے ہیں اور ہمارے لئے ایک مسئلہ بن جاتے ہیں ہمیں انہیں ان بد رسوم سے ہٹانے کے لئے بڑا زور لگا نا پڑتا ہے لیکن ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم ان اقوام میں بھی اسلام کی تبلیغ کر کے اور کامیاب تبلیغ کر کے انہیں اس نور سے متعارف کرائیں گے جو خدا تعالیٰ کا حقیقی نور ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آئینہ میں عکسی رنگ میں چمکا ہے۔غرض کتنا بڑا دعویٰ ہے جو ہم کرتے ہیں اور کتنا مشکل کام ہے جو ہم نے اپنے ذمہ لیا ہے اور جب ہم اپنے اس دعویٰ اور کام پر اس تفصیل کے ساتھ غور کرتے ہیں جس کی طرف میں نے مختصراً اشارہ کیا ہے تو دل بیٹھنے لگتا ہے اور عقل حیران ہو جاتی ہے کہ یہ کام ہو گا تو کس طرح ہو گا ؟ اس کے لئے ہمیں پھر اپنے رب کی طرف ہی رجوع کرنا پڑتا ہے ہمیں اس کے کلام کو ہی دیکھنا پڑتا ہے چنانچہ اس معاملہ میں جب میں نے غور کیا تو اس مشکل کا حل مجھے سورہ بقرہ کی اس آیت میں نظر آیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصُّبِرِينَ۔(البقرة : ۱۵۴) یعنی اے میرے مومن بندو! جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ میں خدائے قادر وتوا نا ہوں اور اپنی تمام صفاتِ حسنہ کے ساتھ اپنی تمام قدرتوں کے ساتھ اور اپنے جلال کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہنے والا اور زندہ رکھنے والا حی و قیوم خدا ہوں جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی تمام اقوام کے لئے اور قیامت تک ہر زمانہ کے لئے نجات دہندہ کی شکل میں بھیجے گئے ہیں جو اس بات پر ایمان رکھتے ہو کہ قرآن کریم انسان کے تمام دینی اور دنیوی مسائل کوحل کرتا ہے جو اس بات پر ایمان لاتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے ہی مبعوث فرمایا ہے۔جو ایمان لاتے ہو کہ جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث کئے گئے ہیں۔اس مقصد میں آپ اور آپ کی جماعت ضرور کامیاب ہوگی تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں بے شک مشکل بڑی ہے اور کام اس نوعیت کا ہے کہ عقل انسانی بظاہر یہ فیصلہ نہیں دے سکتی کہ اس میں ضرور کامیابی حاصل ہوگی لیکن خدا تعالیٰ کا جو وعدہ ہے وہ پورا ہوگا۔اس لئے