خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 190 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 190

خطبات ناصر جلد اوّل 190 خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء نے انسان کے ایک بچے کو خدا تسلیم کر لیا ہے اور وہ نہیں سمجھتی کہ وہ ہستی جو ایک عورت کے پیٹ میں 9 ماہ کے قریب نہایت گندے ماحول میں پرورش پاتی رہی ہو اس کو انسانی عقل خدا کیسے تسلیم کر سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دینی لحاظ سے بالکل اندھے ہیں کوئی معقول دلیل ان کے دماغ میں نہیں۔بہر حال انہوں نے ایک انسان کی جس کو وہ خدائے یسوع مسیح کہتے ہیں۔پرستش شروع کی اور اس سے اتنی محبت اور پیار کیا کہ اپنی تمام دنیوی طاقتیں اس گمراہ عقیدہ کے پھیلانے میں خرچ کر دیں اور وہ جوان کا حقیقی رب تھا اور وہ جو ان کا سچا نجات دہندہ تھا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ان کی طرف وہ متوجہ نہ ہوئے۔انہوں نے اپنی تمام طاقت ، اپنا سارا زور ، اپنے تمام حیلے اور ہر قسم کا دجل خدا تعالیٰ کی اس سچی تعلیم اور صداقت کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا جو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے بھیجی گئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے قبل بہت حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی فرما یا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلائلِ حقہ دیئے، معجزات اور روشن نشانات بھی عطا فرمائے تو اس وقت ان کی ترقی دجل کے میدان میں کافی حد تک رُک گئی لیکن ابھی بہت سا کام کرنے والا باقی ہے۔غرض ہمارا دعویٰ ہے اور اپنے رب سے ہمارا عہد ہے کہ ہم ایک دن ان تمام اقوام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار کر کے چھوڑیں گے۔پھر افریقہ کے ممالک ہیں اور دوسری کئی اور آبادیاں ہیں جو بد مذہب“ کہلانے کی زیادہ مستحق ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ میں کوئی محرف الہی کتاب بھی نہیں۔ہاں اُن کے پاس کچھ روایات ہیں جو بڑی پرانی ہیں۔کچھ تو ہمات ہیں کچھ ڈھکو سلے ہیں جن کو انہوں نے مذہب کا نام دے رکھا ہے بہر حال وہ ایک قسم کا مذہب رکھتے ہیں اس لئے ہم انہیں لا مذہب نہیں کہہ سکتے اور نہ صیح طور پر ان کے مذہب کو مذہب کہہ سکتے ہیں ان کے مذہب کو بگڑے ہوئے مذہب کا نام بھی نہیں دیا جاسکتا اور بہترین لفظ جو ان کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے وہ بد مذہب ہے یہ لوگ اپنی رسومات میں اور اپنے تو ہمات میں اس قدر مست ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کا نام سننے کے لئے بھی تیار نہیں۔ان کی ان عادات کو چھڑانا اور بد رسومات سے انہیں بچانا آسان کام نہیں۔ہم اپنی جماعت میں بھی