خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 177
خطبات ناصر جلد اوّل 122 خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء یعنی تم ہمارے ان احکام کی بظاہر پابندی کرنے کے بعد جو ہم نے تمہیں قول احسن کہنے کے متعلق دیئے ہیں یہ نہ سمجھنا کہ تم کوئی چیز بن گئے ہو اور تمہاراحق ہو گیا ہے کہ تم پر خدا تعالیٰ کی رضا کی راہیں کھلیں اس لئے کہ ربِّكُمْ اَعْلَمُ بِکھ تمہاری بہت سی خطائیں ،غفلتیں اور کوتاہیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو خود تم سے بھی پوشیدہ ہوتی ہیں اور ان باطنی خطاؤں ،غفلتوں اور کوتاہیوں کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہوتا ہے اور کسی کو نہیں ہوتا۔اس لئے تمہارا رب تمہیں تمہاری نسبت بھی زیادہ جانتا ہے یعنی تم اپنے آپ کو اتنا نہیں جانتے جتنا تمہارا رب جانتا ہے۔اس لئے تم میں سے کسی کے لئے فخر و مباہات کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔إِنْ يَشَأْ يَرْحَكُم (بنی اسر اویل: ۵۵) اگر وہ تم پر رحم کرے گا تو یہ اس کی اپنی مرضی کا نتیجہ ہو گا وہ اگر چاہے گا تو تم پر رحم کرے گا۔تم اس کے احکام پر عمل کر کے اس کے رحم کے مستحق نہیں بن جاؤ گے بلکہ اس کے رحم کے وارث ضرور بن جاؤ گے۔اَوْ اِنْ يَشَا يُعَذِّ بكُم (بنی اسر آویل: ۵۵) پہلے بیان فرمایا تھا۔تم امید قائم رکھو کیونکہ تمہارا خدا بڑا رحمان، رحیم اور غفور ہے۔وہ تم سے بڑی محبت کرنے والا اور پیار کرنے والا ہے۔تم یہ امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ تم پر رحم ہی کرے گا۔لیکن ساتھ ہی دل میں خوف بھی رکھو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہاری کسی مخفی خطایا گناہ کے نتیجہ میں تم پر اس کا عذاب وارد ہو یا وہ تمہارے حق میں عذاب نازل کرنے کا فیصلہ کرے۔وَمَا اَرْسَلْنَكَ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا - (بنی اسرآءيل: ۵۵) اے رسول اگر چہ تو خاتم النبین ہے، افضل المرسلین ہے، مخلوقات کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔پھر بھی ہم نے تمہیں ان کا ذمہ دار نہیں بنایا۔تمہاری خوشنودی انہیں جنت میں نہیں لے جاسکتی نہ ان کے متعلق تمہاری اچھی رائے انہیں جنت کا وارث بنا سکتی ہے۔جیسا کہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن یہ نظارہ دکھایا جائے گا کہ آپ کے بعض صحابہ کو دوزخ کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔آپ یہ نظارہ دیکھ کر خدا تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ اے خدا! یہ تو میرے صحابہ ہیں جہاں تک مجھے علم ہے انہوں نے تیری خاطر اخلاص اور فدائیت کے ساتھ قربانیاں دی ہیں میں تو سمجھتا تھا کہ انہوں نے تیری رضا کو حاصل کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے