خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 162 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 162

خطبات ناصر جلد اول ۱۶۲ خطبه جمعه ۲۵ فروری ۱۹۶۶ء کے معاف کر دیئے جانے کی وجہ سے نہیں ہو سکتا۔ترک معاصی اور چیز ہے اور اعمال صالحہ بجالانا بالکل اور چیز ہے۔پس ترک معاصی یا گناہوں کے معاف کر دیئے جانے کیوجہ سے انسان ایسا ہو جاتا ہے کہ گویا وہ گنہ گار نہ رہا، عاصی نہ رہا اور یہ پہلا زینہ ہے روحانی ترقیات کا لیکن روحانی ترقیات کے حصول کے لئے عملاً نیک کاموں کا بجالانا اور خدا تعالیٰ کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنا ضروری ہے اسی طرح جہاں اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں اپنی صفات غفور ، تو آب اور رحیم کو پیش کر کے انسان کو گناہوں کے بخش دینے کا یقین دلایا۔وہاں اس کے ساتھ ہی فرمایا خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تو ان کے اموال میں سے صدقہ لے اور ان دونوں آیات کو آگے پیچھے لانے سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ روحانی ترقیات کے لئے ترک معاصی کافی نہیں۔اس لئے کہ مثلاً دنیا میں ہزاروں قسم کے جانور ایسے ہیں جن میں سے کسی کے متعلق بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ گنہ گار ہے۔زمیندار اپنے گھروں میں بھیڑ بکریاں بھی رکھتے ہیں، گائے اور بیل بھی رکھتے ہیں، بھینسیں اور بھینسے بھی رکھتے ہیں اونٹ بھی رکھتے ہیں۔غرض مختلف قسم کے جانوران کے پاس ہوتے ہیں۔مگر کبھی کسی زمیندار نے باوجود اس کے کہ جانور گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے یہ نہیں کہا کہ میرا فلاں جانور ( ان معنوں میں جن میں انسان کو گنہ گار کہا جاتا ہے ) گنہ گار ہے یا فلاں جانور گنہ گار نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے لئے قانون ہی ایسا بنایا ہے کہ انہیں گناہ کرنے کی آزادی دی ہی نہیں۔وہ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے، کرتے ہیں گناہ نہیں کرتے۔پس جہاں تک ترک معاصی کا سوال ہے یہ کمال ہر جانور کے اندر پایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم یہ نہیں کہتے اور نہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہت بڑا اور بلند روحانی کمال رکھنے والے ہیں۔کسی گائے یا بھینس کو یا کسی بکری اور بھیڑ کے لئے یہ نہیں کہا جاتا کہ اس میں بڑی روحانیت ہے کیونکہ اس سے کبھی کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔پس اگر انسان صرف اسی مقام پر ٹھہر جائے کہ میں نے ساری عمر کوئی گناہ نہیں کیا تو وہ یہ دعوی تو کر سکتا ہے کہ میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں جہاں تک دنیا کے لاکھوں اور کروڑوں اونٹ گدھے بیل گھوڑے بھیڑ اور بکریاں اور دوسرے جانور پہنچے ہوئے ہیں۔اس سے زیادہ دعوی کا وہ سزا وار نہیں۔غرض روحانی مدارج کے حصول کے لئے گناہوں کو