خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 149
خطبات ناصر جلد اوّل ۱۴۹ خطبہ جمعہ ۱۸ رفروری ۱۹۶۶ء ہمارے کسی مسلمان بھائی نے ایسا کرنے میں ایک لحظہ بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس نے اپنا سارا راشن قو می خزانہ میں جمع کرا دیا ، اور اس کے بعد اسے ذاتی استعمال کے لئے اس میں سے جو کچھ واپس ملا اس نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اور اس کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے لے لیا اور ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اسے بھوکا نہیں مارا سیری صرف پیٹ میں کھانے کی ایک مقدار کے چلے جانے کا نام نہیں بلکہ سیری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جسم کی ضرورت پوری ہو جائے اور ہماری (احمدی ) تاریخ کا ایک واقعہ ہے کہ ہمارے ایک بزرگ کو جب وہ حضرت خلیفہ اسی اول کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے شدید بھوک لگی اور اس کی وجہ سے انہیں بہت تکلیف ہو رہی تھی لیکن وہ حضور کی مجلس سے اٹھنا بھی نہیں چاہتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں کشف میں ہی کھانا کھلا دیا بھوک کی وجہ سے ان کے جسم میں جو کمزوری اور ضعف محسوس ہو رہا تھا وہ دور ہو گیا اور پیٹ بھی بھر گیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی قدرت کے یہ جلوے اس لئے دکھائے ہیں کہ تاہم یقین کریں کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا سارا مال بھی دے دیتا ہے تو وہ اسے بھوکا نہیں مرنے دیتا وہ اس کی سیری کے غیب سے سامان پیدا کر دیتا ہے اب اگر کسی کی جسمانی کمزوری جو کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ہوتی ہے دور ہو جائے اس کے جسم کو طاقت اور توانائی حاصل ہو جائے اسے بھوک کا احساس نہ رہے اور وہ راحت اور سکون محسوس کرنے لگے تو کھانے کا مقصد حاصل ہو گیا۔اب اگر وہ مادی کھانا نہ بھی کھائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ز بذل مال در راہش کسے مفلس نمی گردد یعنی اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال دینے والا کبھی مفلس نہیں ہوتا اور آگے جا کر آپ اس کی بڑی عجیب دلیل دیتے ہیں۔فرماتے ہیں:۔خدا خود می شود ناصر اگر ہمت شود پیدا ہمت کا لفظ فارسی زبان میں کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں سے تین معانی (۱) بلند ارادہ (۲) جرأت اور (۳) دعا کے ہیں۔پس اس مصرعہ کے یہ معنی ہوئے کہ اگر تم نیک نیتی کے ساتھ