خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 135
خطبات ناصر جلد اول ۱۳۵ خطبه جمعه ۱ار فروری ۱۹۶۶ء خدا تعالیٰ بھی محنت کا پھل دیتا ہے اور آم کا درخت بھی خدا تعالیٰ کے اذن کے ساتھ محنت کا پھل دیتا ہے یعنی انسان آم کے درخت پر محنت کرے تو خدا تعالیٰ کے اذن کے ساتھ اسے محنت کا پھل مل جاتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ محنت تو کرے اس لئے کہ اسے اس درخت سے آم ملیں لیکن اسے اس درخت سے کھٹی گلگل حاصل ہو کیونکہ اس درخت نے خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرنی ہے، خدا تعالیٰ کا اسے حکم ہے کہ اگر کوئی انسان اس کی پرورش کرے تو وہ بڑا ہو کر اسے آم ایسا میٹھا پھل دے لیکن اس آم میں خدا تعالیٰ کے صفات کا مظہر بننے کی اہلیت نہیں کیونکہ جہاں جبری اطاعت ہو وہاں کامل مظہریت پیدا نہیں ہوتی جیسے اللہ تعالیٰ پر کسی اور ہستی کا زور نہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی اس کے ایک محدود دائرہ کے اندر آزادی دے دی ( بڑے دائرہ کے اندر تو وہ بھی بہت سی پابندیوں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے ) یعنی اس کو ایسی قو تیں عطا کر دیں کہ وہ بھی خدا تعالیٰ کی ان صفات کو جو اسے عطا کی گئی ہیں ایک محدود دائرہ کے اندرا اپنی مرضی سے استعمال کر سکے اور اگر چاہے تو وہ راستہ بھی اختیار کر لے جو اس کی فطرت صحیحہ کے مطابق نہیں۔غرض خیر کے معنی جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس چیز کے ہیں جسے انسان ہر حالت میں پسند کرتا ہے۔وہ اس میں رغبت رکھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اگر تدبر اور فکر سے کام لیا جائے تو ایسی اشیاء صرف وہی ہو سکتی ہیں جن کا مطالبہ ہماری فطرت صحیحہ کر رہی ہو کیونکہ جو چیز ہماری فطرت صحیحہ کے مطابق اور مناسب حال نہیں اسے تمام بنی نوع انسان پسند نہیں کر سکتے۔اس کو وہ محبوب نہیں رکھ سکتے۔وہ ان کی مرغوب نہیں ہوسکتی۔انسان کو مرغوب اور محبوب وہی چیز ہو سکتی ہے جس کا اس کی فطرت صحیحہ تقاضا کر رہی ہو۔پس جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ تو آپ کی اس سے یہی مراد تھی کہ تم میں سے سب سے زیادہ صاحب خیر یعنی ان چیزوں کو جن کا اس کی فطرت صحیحہ مطالبہ کرتی ہے اور خواہش رکھتی ہے۔سارے کمالات کے ساتھ حاصل کرنے والا وہ شخص ہے جو ان سب بھلائیوں کو اپنے اہل کے لئے بھی منتخب کرتا ہے کیونکہ اگر کوئی