خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1025 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1025

خطبات ناصر جلد اول ۱۰۲۵ خطبہ جمعہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۶۷ء کم و بیش تیس سال کا عرصہ بڑا ہی اہم ہے اور ہم سے انتہائی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے خطبه جمعه فرمود ه ۲۹ دسمبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ ، سورۃ فاتحہ اور سورۃ القدر کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس سورۃ ( سورۃ القدر ) کی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بڑی لطیف تفسیر بڑی تفصیل کے ساتھ تفسیر کبیر میں بیان فرمائی ہے میں اس وقت احباب کو دو ایک باتوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو اس سورۃ کے مضامین سے تعلق رکھتی ہیں۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے معنی بہت سے کئے جاسکتے ہیں اور بہت سے کئے گئے ہیں خلاصہ ان سب معانی کا یہ بنتا ہے کہ لَیلَةُ الْقَدْرِ وہ اندھیری رات یا وہ اندھیرا زمانہ ہے۔جس میں اللہ کی طرف سے اندھیروں کے دور کرنے اور روشنی کے ظہور کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور لَيْلَةُ الْقَدْرِ انفرادی بھی ہوتی ہے اور اجتماعی بھی ہوتی ہے۔احادیث میں جہاں یہ ذکر ہے کہ سارے سال میں کسی وقت لَيْلَةُ الْقَدْرِ ہوسکتی ہے۔وہ ذکر انفرادی لَیلَةُ الْقَدْرِ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اجتماعی لَيْلَةُ الْقَدْرِ ایک تو ( جیسا کہ احادیث اس طرف اشارہ کر رہی ہیں ) رمضان کی آخری دس راتوں میں سے ایک رات ہوتی ہے یا اجتماعی لیلة القدر انبیاء کا وہ اندھیرا زمانہ ہوتا ہے جن میں وہ نازل ہوتے اور جس کے اندھیروں کو ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ دور کرتا ہے۔انفرادی لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا مطلب