خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1009
خطبات ناصر جلد اوّل 10+9 خطبہ جمعہ ۱۵؍ دسمبر ۱۹۶۷ء نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور تنگ دستی پیدا کرتا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ احتیاج کے وقت تم اپنے رب کی طرف جھکتے ہو یا انسان کی طرف جھکتے ہو۔نا جائز طریق سے مال حاصل کرنا چاہتے ہو یا مانگتے ہو جو نا پسندیدہ ہے یا اپنے رب پر توکل رکھتے ہو اور مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ تم یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہارے رزق میں ان راہوں سے برکت پہنچائے گا کہ جن کا وہم و گمان بھی تم نہیں کر سکتے تمہارے ذہن میں وہ بات آ ہی نہیں سکتی۔غرض یہاں ہر سہ قسم کی تکالیف اور مصائب اور شدائد کا بیان ہے یعنی ان تکالیف ، مصائب اور شدائد کا بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے امتحان کے لئے نازل کی جاتی ہیں اور ان کا بھی جو مخالفوں کی مخالفت کے نتیجہ میں انسان پر آتی ہیں اور ان کا بھی جو انسان اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لاتے ہوئے خود اپنے لئے پیدا کر لیتا ہے اور جن کی بعض مثالیں میں نے اس وقت دی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ ہر سہ قسم کے شدائد اور مصائب اور تنگ دستیوں میں اور با ساء میں تمہیں مبتلا کیا جائے گا اور پھر فرمایا کہ ہم تمہاری ظاہری حالت ایسی کر دیں گے کہ تمہیں غریب پاکر اور تمہیں دنیوی عزتوں سے ننگا پا کر دنیا تمہاری بے عزتی کے لئے تیار ہو جائے گی اور تمہیں ضراء میں مبتلا کر دیا جائے گا اور ہر سہ قسم کی ضراء تمہیں پہنچیں گی یعنی تمہارا مخالف تمہیں مالی نقصان پہنچائے گا اور تمہاری بے عزتی کرے گا۔اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کے لئے ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ تمہاری عزت میں فرق آ جائے اور تم خود اپنے نفس کو پہچانتے ہوئے اسے عاجزی اور کم مائیگی کے مقام پر لا کھڑا کر دو گے۔تمہیں ضَرّاء پہنچے گی یعنی تم خود یہ جاننے اور پہچاننے لگو گے کہ تمہاری کوئی عزت نہیں۔ساری عزتیں خدا کی ہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں عزت نہ ملے تم حقیقی معنی میں معزز کہلانے کے مستحق نہیں ہو تو ہر سہ قسم کے ابتلا ضراء کے میدان میں بھی تمہیں دیکھنے پڑیں گے اور پھر خوف کی حالت طاری ہوگی کبھی دشمنوں کی دشمنی کے نتیجہ میں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا ہے۔هنالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا - (الاحزاب : ١٢)