خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 992 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 992

خطبات ناصر جلد اول ۹۹۲ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۶۷ء دروازے مقفل رہیں اور شیاطین ( جو وجود بھی ہمارے لئے شیطان بن سکتے ہیں ان ) کو پابہ زنجیر کر دیا جائے اور ہم ان کے حملہ سے محفوظ رہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ہم بھی اللہ تعالیٰ کی اس بشارت کے مستحق ہوں کہ جو شخص رمضان کے روزے رکھتا ہے ایمانا اس ایمان اور یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر اپنے فضل کے دروازے کو کھولنے کے لئے رمضان کا روزہ فرض اور واجب کیا ہے اور ہمارے لئے رحمت کا موجب ہے تکلیف اور زحمت کا موجب نہیں اور اِحْتِسَابًا أَى طَلَبًا لِلْآخِرِ فِي الْآخِرَةِ اس کے نتیجہ میں اپنے ربّ کے اجر کا طالب ہو اور یہ عزم اور یہ رغبت اس کے اندر پائی جاتی ہو کہ میں نے ہر قربانی دے کر اپنے رب سے اس کا ثواب حاصل کرنا ہے اور بشاشت قلب کے ساتھ وہ یہ قربانی دے اسے بوجھ نہ سمجھے یہ معنی ہیں احتساب کے۔غرض جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں کو بوجھ نہیں سمجھتا طیب خاطر اور بشاشت قلب کے ساتھ وہ انہیں بجالاتا ہے اور اس کے دل میں ایک جوش ہوتا ہے کہ میں ہر قربانی دے کر اپنے رب کی خوشنودی کوضرور حاصل کروں گا اور اس ایمان پر قائم ہوتا ہے کہ اگر میں نے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ذریعہ اور قرآن کریم میں اس رضا کے حصول کی جو راہیں ہم پر کھولی ہیں ان پر میں چلوں گا تو پھر غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہ جو اس کی شرعی کمزوریاں ہیں اللہ تعالیٰ انہیں مغفرت کی چادر کے نیچے ڈھانپ لے گا اور اپنے نور سے اسے منور کرے گا اور اپنی رضا کی جنت میں اسے داخل کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب سے خوش ہو اور ہم سے راضی رہے اور ہمیں ایسے اعمال بجالانے کی توفیق دے جو اس کی نگاہ میں مقبول ہوں اور شیطان کو انتہائی طور پر ناپسندیدہ ہوں اور وہ ہمیں اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرے اور ہم سے خوش ہو جائے اور ہمیں اپنا محبوب بنالے (اپنا محبوب کہتے ہوئے روح کانپ اُٹھی کہ ایک بندہ ناچیز خدا کا محبوب کیسے بن سکتا ہے۔بندہ بڑا ہی عاجز ہے اور کوئی خوبی اس میں نہیں لیکن ہمارا رب بڑا ہی پیار کرنے والا ہے وہ کہتا ہے کہ میری طرف آؤ