خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 991
خطبات ناصر جلد اول ۹۹۱ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۶۷ء ابوہریرہ کی روایت ہے ) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔إِذَا دَخَلَ رَمَضَانَ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَخُلِقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ وَ سُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ - آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جب آسمان کے دروازے کھلتے ہیں تو دو نتیجے پیدا ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ آسمانی رحمتوں کا نزول ہونے لگتا ہے دوسرے یہ کہ انسان کے اعمالِ صالحہ جو خلوص نیت سے کئے جائیں وہ آسمانوں میں داخل ہو سکتے ہیں ( یہ ایک تمثیلی زبان ہے ) یعنی قبولیت کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔دروازہ کھلنے کے دو ہی نتیجے ہو سکتے ہیں اور دونوں پیدا ہوتے ہیں۔پس جو شخص نیک نیتی کے ساتھ خدا تعالیٰ کے لئے روزہ بھی رکھتا ہے اور اس کے لوازمات بھی بجالاتا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ آسمانوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔بڑی کثرت سے نزول رحمت باری شروع ہو جاتا ہے اور ایسا بندہ اللہ تعالیٰ سے اس کے حکم کی بجا آوری کی توفیق بھی پاتا ہے اور جو عاجزانہ طور پر اپنے خدا کے حضور پیش کرتا ہے اس کی قبولیت کے سامان بھی پیدا کئے جاتے ہیں۔ان دروازوں سے اعمالِ صالحہ داخل ہو جاتے ہیں خُلِقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ روزے دار کے لئے ایسے سامان پیدا کر دئے جاتے ہیں کہ وہ معاصی سے بچنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جن باتوں سے روکا ہے ان سے وہ رک جاتا ہے اور یہی چیزیں ہیں جن کے نتیجہ میں جہنم کے دروازے کھلتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی توفیق سے وہ معاصی سے بچتا ہے اور نواہی سے پر ہیز کرتا ہے اور جس وقت رحمت کے دروازے کھلے ہوں جہنم کے دروازے بند ہوں تو پھر اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ صُفْدَتِ الشَّيَاطِينُ کہ شیطان زنجیروں میں جکڑ دئے گئے۔شیطانی حملہ اندرونی ہو ( نفس اتارہ کے ذریعہ ) یا بیرونی ہو وہ کارگر نہیں ہوسکتا۔غرض یہ رمضان جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے اور یہ رمضان ہے جس کی طرف ہمیں پورے نفس اور پوری روح کے ساتھ متوجہ ہونا چاہیے تا ہم خدا کے فضل اور اس کی توفیق سے ایسے اعمال بجالائیں کہ ہمارے لئے جنتوں کے دروازے تو ہمیشہ کھلے رہیں لیکن جہنم کے