خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 986
خطبات ناصر جلد اول ۹۸۶ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۶۷ء یعنی اگر کوئی شخص بظاہر رمضان کے روزے تو رکھتا ہے۔لیکن قول زور اور قول زور پر عمل چھوڑتا نہیں تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کا کھانا پینا یا بعض اور باتوں کو دن کے وقت چھوڑ نا مقبول نہیں ہوگا۔زور کے معنی اَلْعَيْلُ عَنِ الْحَقِّ حق اور صداقت سے پرے ہٹ جانے کے ہیں۔اسی طرح مفردات راغب نے زور کے ایک معنی بت کے بھی کئے ہیں (وَيُسَةُ الصَّنَمُ زُورًا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص غلط اعتقادات کو چھوڑ تا نہیں اور ان کا اپنی زبان سے اور اپنے عمل سے اظہار کرتا ہے اور غلط اعتقادات کے نتیجہ میں عمل غیر صالح بجالاتا ہے۔ایسے شخص کا روزہ رکھنا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کھانا اور پینا چھوڑ دینا کوئی ایسی نیکی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو مقبول ہو اور اس کے نتیجہ میں وہ اس کی طرف متوجہ اور ملتفت ہو۔اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ رمضان کا مہینہ نفس امارہ کو کچلنے کے لئے قائم کیا گیا ہے۔یعنی رمضان کے روزے اور اس کی دیگر عبادات اس لئے فرض کی گئی ہیں اور اس میں بجالانے والے نوافل اس لئے قائم کئے گئے ہیں کہ انسان نفس اتارہ کے حملوں سے نجات پائے اور انسان کا نفس اتارہ نفسِ مطمئنہ کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھ لے لیکن اگر رمضان کا مہینہ نفس اتارہ کے مارنے پر منتج نہیں ہوتا اس کے نتیجہ میں نفسِ اتارہ مرتا نہیں۔بدی کی رغبت اسی طرح قائم رہتی ہے انسان کی زبان اور اس کا دل اور اس کے جوارح پاک نہیں ہوتے تو اسے بھوکا رہنے اور پیاسا رہنے سے کیا فائدہ۔اگر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی قبولیت انسان کو حاصل نہ ہو اور خدا تعالیٰ محبت اور پیار کے ساتھ اس کی طرف ملتفت اور متوجہ نہ ہو۔یہاں جیسا کہ پہلے بزرگوں نے بھی یہی معنی کئے ہیں حَاجَةٌ کے معنی وہ نہیں جو اس وقت ہوتے ہیں جب یہ لفظ انسان کے لئے استعمال کیا جاتا ہے بلکہ حَاجَةٌ کے معنی یہاں یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے روزوں کو قبول نہیں کرے گا اور انسان کی طرف ملتفت نہیں ہو گا۔پس روزے اس معنی میں کہ یہ نفس کے کچلنے کے لئے قائم کئے گئے ہیں اور شیطان کے حملوں سے انسان کو بچاتے ہیں ہمارے لئے بطور ڈھال کے ہیں جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلَ - فَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْشَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي