خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 985
خطبات ناصر جلد اول ۹۸۵ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۶۷ء رمضان المبارک میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور کثرت سے الہی برکات کا نزول ہوتا ہے خطبه جمعه فرموده یکم دسمبر ۱۹۶۷ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔شَهُرُ رَمَضَانَ الَّذِي أَنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ - (البقرة: ١٨٦) پچھلے دنوں میں نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ہماری توجہ اس طرف پھیری ہے کہ قرآن کریم کامل ہدایت ہے اور حکمتوں اور دلائل کے ساتھ اپنی بات منوانے والی کتاب ہے اور اس پر عمل پیرا ہو کر نور اور فرقان انسان کو حاصل ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ایک کامل اور مکمل نور ہے۔جو اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کے سر چشمہ سے نکلا ہے اور رمضان کا مہینہ اس لئے مقرر کیا گیا ہے کہ قرآن کریم کی ہدایت اور اس کی حکمتوں اور اس کے فرقان سے زیادہ سے زیادہ حصہ لیا جا سکے۔آج میں رمضان کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات اپنے دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔امام بخاری لکھتے ہیں کہ ابو ہریرہ سے یہ روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ النُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ -