خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page ix of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page ix

VII فضل ہو اس کو ہم اکیلا نہیں کہہ سکتے۔پھر وہ ایک سے ہزار ہوا۔ہزار سے لا کھ ہوا۔پھر اس کے نام لیوا لاکھ سے دس لاکھ تک جا پہنچے۔اور اب تو ان کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔میرا اندازہ ہے کہ ساری دنیا میں اس وقت کم و بیش دو کروڑ احمدی ہیں۔جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس محبوب مہدی کو مانتے ہیں جس کو اولا گھر والے بھی نہیں پہچانتے تھے۔اور اس پر ابھی زمانہ بھی کیا گذرا ہے۔تھوڑا سا زمانہ ہے کیونکہ ہمیں جو بشارت دی گئی ہے۔وہ تین صدیوں پر مشتمل ہے۔یعنی تین صدیاں نہیں گذریں گی کہ تمام دنیا میں اسلام غالب آ جائے گا تاہم ہمارا اندازہ ہے ( بہت سی پیشگوئیوں اور بشارتوں پر یکجائی نظر ڈالتے ہوئے کہ ) خدا کرے کہ یہ صحیح ہو بہر حال یہ ہماری تعبیر و تشریح ہے کہ ان بشارتوں کے پورا ہونے میں شاید سو سوا سو سال کا عرصہ نہیں گذرے گا کہ اسلام کے حق میں ایک بہت بڑا انقلاب نمایاں ہو کر دنیا کے سامنے آجائے گا۔(خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۶۲۹،۶۲۸) ۹ - ۲۰ مارچ ۱۹۷۸ء کو ایک خطبہ نکاح ازدواجی رشتے کی اس طرح خوبصورت مثال دی۔ازدواجی رشتے کی مثال مادی دنیا میں ایک ایسے پیوند کی ہے جس کے پھولوں میں نر اور مادہ اکٹھے ہوتے ہیں۔عورت کی ذمہ واریوں سے مرد کے حقوق کی شاخیں نشو و نما پاتی ہیں اور عورت کے حقوق کی شاخیں مرد کی ذمہ واریوں سے نشو و نما حاصل کرتی ہیں۔ازدواجی رشتے کے بعد ایک ہی خاندان بن جاتا ہے اور جیسے کہ میں نے بتایا ہے اس کی مثال درخت کے پیوند کی ہے جس کی ایک ہی ٹہنی کے ایک پھول میں نہ بھی ہے اور مادہ بھی یعنی مرد بھی ہے اور عورت بھی ہے اور وہ ان ریشوں کے ذریعہ سے جو ٹہنی میں چلتے ہیں اور پیوند میں سے ہو کر جڑوں تک جاتے ہیں اپنی نشوونما کے سامان پیدا کرتے ہیں۔ہم مرد و زن جو جماعت احمدیہ کی طرف منسوب ہونے والے ہیں ہم دنیا میں ایک حسین اور خوشحال اسلامی معاشرہ قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔پس ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم زندگی کے ہر شعبہ کو اسلامی نور سے منور کرتے ہوئے اس میں اسلام کا حسن پیدا کریں اور دنیا کے لئے ایک نمونہ بنیں اور ہم میں سے ہر مرد اپنی بیوی کے حقوق ادا کرنے والا ہو اور ہم میں سے ہر عورت اپنے خاوند کے حقوق ادا کرنے والی ہو اور باہم مل کر ایک حسین خاندانی معاشرہ قائم کریں اور پھر خاندان مل کر دنیا کے لئے ایک نمونہ بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔“ ( خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۷۷۹،۷۷۸)