خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page viii
VI حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعاؤں اور بشارتوں کو ان کے حق میں قبول کرے اور پورا 66 کرے۔( خطبات ناصر جلد دہم صفحہ ۳۸۳، ۳۸۴) ۶ - ۱۲ اگست ۱۹۶۸ء کو خطبہ نکاح میں لڑکی اور لڑکے والوں کو اس پیارے انداز سے نصیحت فرمائی۔شادی کے اوپر یہ دیا یہ نہیں دیا یوں کرنا چاہیے تھا۔یہ نہیں سوچتے کہ بیٹی والوں نے اپنے گھر کی سب سے قیمتی چیز خاوند کے گھر بھیج دی اور وہ بیٹی ہے۔ایک انسان سے زیادہ تو دنیا کی کوئی چیز قیمتی نہیں ہو سکتی۔لڑکے والوں نے اپنا لڑکا دے دیا۔اس گھر میں اس لڑکے سے زیادہ اور کون سی قیمتی چیز ہوسکتی ہے تو سب سے زیادہ قیمتی چیز لی بھی اور دی بھی اور پھر ان بیہودہ باتوں کی طرف خیال کرنے لگ گئے اس سے برکت نہیں رہتی۔اس سے اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل نہیں کیا جاسکتا۔اس کے نتیجہ میں ازدواجی زندگی خوش گوار ہر گز نہیں رہ سکتی۔“ ( خطبات ناصر جلد دہم صفحه ۴۱۶) ۷ ۵ رمئی ۱۹۶۹ء کو خطبہ نکاح میں ازدواجی رشتوں کی مضبوطی کے بارے ان الفاظ میں تلقین فرمائی۔”نکاح کے ذریعے جو رشتے باندھے جاتے ہیں۔یہ رشتے بڑے ہی نازک ہوتے ہیں اور ان رشتوں کو پختہ اور مستحکم بنانے کی ذمہ داری صرف خاوند اور بیوی پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی ذمہ داری ہر دوخاندانوں اور ان کے عزیز واقارب پر بھی ہوتی ہے۔اگر برادری میں رشتہ ہو تو بہت سی پرانی رنجشوں کو بھلانا پڑتا ہے تب رشتہ میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔اگر برادری نہ ہو تو ایسے دو خاندانوں میں جن کا آپس میں پہلے کوئی قرابت کا تعلق نہیں اجنبیت ایک طبعی چیز ہے۔اس اجنبیت کو دور کرنا پڑتا ہے۔وہ جو پہلے بیگانے تھے اب لگانے بن جاتے ہیں۔اس کے لئے بہر حال کوشش کرنی پڑتی ہے اور کوشش کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے پھر سے احمدیت کی برادری کو اسلامی اخوت کی بنیادوں پر اس طرح قائم کیا ہے کہ ہماری جماعت کی اکثر شادیاں آپس میں نئے ازدواجی رشتوں کو قائم کرتی ہیں۔خاندانوں میں پہلے قرابت داری کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔احمدیت کا رشتہ اگر ہم اسے سمجھیں دنیا کی سب قرابتوں سے بالا اور ارفع اور مضبوط تر ہے۔اگر نہ سمجھیں تو یہ ہماری بدقسمتی ہے اور ہمارے لئے دکھ کا باعث بن سکتی ہے۔“ ( خطبات ناصر جلد دہم صفحه ۴۵۶،۴۵۵) ۱/۲۰ پریل ۱۹۷۳ء کو غلبہ اسلام کے بارہ میں پیشگوئی کرتے ہوئے فرمایا۔اب دیکھو وہ شخص اکیلا تھا۔اکیلا نہیں تھا۔خدا تعالیٰ اس کے ساتھ تھا۔جس کے ساتھ خدا کا