خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 854 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 854

خطبات ناصر جلد دہم ۸۵۴ خطبہ نکاح ۱۰ رمئی ۱۹۸۲ء انہیں اس وقت ماموں کہا اور اس لئے بھی کہ مجھے حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیٹا بنایا ہوا تھا اور انہی کی گود میں میں نے پرورش پائی اور انہی کی تربیت جہاں تک مجھ سے ہو سکا میں نے حاصل کی۔اس لحاظ سے اور اس نسبت سے بھی وہ میرے ماموں تھے۔اس نکاح کے اعلان کے لئے جب میں گھر سے چلا تو میرے ذہن میں پرانی یادیں ابھریں اور ہمارے یہ ماموں اور ان کے اخلاق اور ان کا طرز زندگی اور رہن سہن اور ان کی عادتیں اور دوسروں کے ساتھ ان کا تعلق وغیرہ ایک تیز سلسلہ، بڑی تیزی سے حرکت کرنے والا میرے ذہن میں سے گزرا۔سلسلہ عالیہ احمدیہ میں ایسے لوگ پیدا ہوئے جو اپنا ایک منفرد کیریکٹر اور نمونہ رکھتے تھے۔ماموں جان رضی اللہ عنہ کا اپنا ایک نمونہ تھا۔جو چیز سینکڑوں میں سے اس وقت بیان کرنے کے لئے میں نے منتخب کی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ زمانہ جو میرے بچپن کا زمانہ تھا ، جماعت احمدیہ کی اجتماعی زندگی میں غربت کا زمانہ تھا ، تعداد کم تھی۔اجتماعی زندگی میں جماعت کے پاس جو دولت یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا تھی، وہ اتنی زیادہ نہیں تھی۔میرے ذہن میں یہ یاد بھی تازہ ہے کہ مجلس مشاورت میں یہ بحث ہوتی تھی کہ تین تین، چار چار، پانچ پانچ مہینے سے کارکنوں کو تنخواہ نہیں ملی کیونکہ چندے اتنے نہیں آ رہے تھے کہ ان کو تنخواہیں دی جاسکیں اور اس وقت کے جماعت احمدیہ کے کارکن آج کے کارکنوں سے مختلف مقام رکھتے تھے۔وہ واقف نہیں کہلاتے تھے لیکن وقف کی روح کے ساتھ خدا اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے دین کی خدمت میں مشغول رہنے والے تھے۔سارے کے سارے مطمئن ہوں گے کیونکہ میں نے اس زندگی میں شور اور ہنگامہ کبھی نہیں دیکھا لیکن جو بھی خدا نے دیا اس پر خوشی اور بشاشت کے ساتھ زندگی گزارنا، یہ میں نے کم لوگوں میں دیکھا اور ان میں سے ایک ہمارے ماموں میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ تھے۔انہوں نے بھر پور زندگی گزاری۔چھوٹی چھوٹی باتوں سے وہ اس طرح خوش ہوتے تھے کہ جس طرح دنیا و جہان کی دولت مل گئی ہو مثلاً برسات کے دنوں میں بارشیں بہت ہوتی تھیں۔قادیان کی جغرافیائی حالت کچھ اور تھی۔یہاں کچھ اور ہے۔یہاں تو بارش ہوتی ہے تو پھسلن ہو جاتی ہے پاؤں مٹی میں پھنستا ہے لیکن وہ کیفیت نہیں پیدا ہوتی