خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 853 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 853

خطبات ناصر جلد دہم ۸۵۳ خطبہ نکاح ۱۰ رمئی ۱۹۸۲ء رشتوں سے خاندانوں کی روایات اور روحانی استعداد میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوتی ہیں خطبہ نکاح فرموده ۱۰ رمئی ۱۹۸۲ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر محترم سید شعیب احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ابن مکرم سید میر محمود احمد ناصر صاحب سابق مبلغ امریکہ کے نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔نسلاً بعد نسل جو بچیوں اور بچوں کو ازدواجی رشتوں میں باندھنے کا حکم ہے، اس کے نتیجہ میں ایک تو خاندانوں کی نسل آگے چلتی ہے اور دوسرے خاندانوں میں جو روایات ہیں اور جو اخلاقی ورثہ ہے اور جو روحانی استعدادیں ہیں ، وہ بھی ایک نسل کے بعد دوسری نسل کی طرف منتقل ہوتی ہیں یا ہو سکتی ہیں اگر آنے والی نسل ایسا چاہے۔جس بچہ کے نکاح کا اعلان میں اس وقت کرنا چاہتا ہوں اس کا تعلق ہمارے ماموں حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے۔میں نے ہمارے ماموں دووجہ سے کہا۔ایک اس لئے کہ ہمارے خاندان میں ہماری نسل انہیں ماموں ہی کہتی تھی۔ویسے وہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ، حضرت میاں بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ اور حضرت مرزا ا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ اور ان کی بہنوں کے ماموں تھے لیکن ہم بھی انہیں ماموں کہتے تھے۔اس لئے بھی میں نے