خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 841 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 841

خطبات ناصر جلد دہم ۸۴۱ خطبہ نکاح ۲ / جنوری ۱۹۸۲ء تربیت کرنی ہے کہ جب ابدی حیات کے دروازے کھلیں تو خدا تعالیٰ کے پیار کو وہ نسل حاصل کرنے والی ہو، خدا تعالیٰ کے قہر اور غضب کو پانے والی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ تمام احمدی نکاحوں کو ( جن سے ) جماعت احمدیہ میں رشتے قائم کئے جاتے ہیں ان کو ایسا ہی بنائے اور پیچھے جو ماں باپ بن چکے اور آگے جو ماں باپ بہنیں گے اور آج جن دو نکاحوں کا میں اعلان کروں گا اللہ تعالیٰ ان کو اس نکتہ کے سمجھنے اور جن قربانیوں کا یہ نکتہ مطالبہ کرتا ہے اس کے مطابق قربانیاں دینے اور عمل کرنے اور اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کی توفیق عطا کرے۔اس وقت میں دو ایسے نکاحوں کا اعلان کروں گا جن کا تعلق حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے۔جن کی ذمہ داریاں ہر دوسرے خاندان سے کہیں زیادہ ہیں۔ان ہمارے بچوں کو اس حقیقت کو سمجھنے کی بھی خدا توفیق دے کہ وہ عام میاں بیوی بننے والے نہیں بلکہ ایسے میاں بیوی بننے والے ہیں جن کا اچھا نمونہ دوسروں کے دلوں میں پیار پیدا کرے گا جن کا بُرا نمونہ دوسروں کے دلوں میں ، احمدیوں کے دلوں میں ، نفرت پیدا کرے گا کہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب ہورہے ہیں اور اپنا ایسا نمونہ نہیں دکھا رہے جو اسلام کا حسن ظاہر کرنے والا ہو۔عزیزہ امتہ الوکیل صاحبہ بنت مکرم و محترم مرزا انور احمد صاحب کا نکاح عزیزم مکرم مرزا محمود احمد صاحب ابن مکرم و محترم مرزا مجید احمد صاحب ربوہ سے ہیں ہزار روپے مہر پر قرار پایا ہے۔عزیزہ امتہ النور معین صاحبہ بنت مکرم و محترم پیر معین الدین صاحب کا نکاح عزیزم مکرم مرزا طیب احمد صاحب ابن مکرم و محترم مرزا رفیع احمد صاحب ربوہ سے گیارہ ہزار روپے مہر پر قرار پایا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت ہونے کے لئے احباب سمیت دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۲۲ فروری ۱۹۸۲، صفحه ۲، ۳)